مختلف میدانوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
فقہی نقطۂ نظر
مولاناڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
مصنوعی ذہانت کی شرعی حیثیت
مصنوعی ذہانت( AI )کی ٹیکنالوجی کو بنانے اور اسے استعمال کرنے کے مقاصد کا شرعاً جائز ہونا ضروری ہے، اگر ایسا ہے تو مصنوعی ذہانت کے مختلف النوع استعمال میں اصل اور غالب حکم جواز و مشروعیت کا ہے، اس پر متعدد شرعی دلائل سے استدلال کیا جاسکتا ہے، جن میں نمایاں وہ قرآنی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کی اشیاکو انسان کے لیے پیدا کرنے اور مسخر کرنے کا ذکر فرمایا ہے جو اہل علم کے درمیان معروف ہیں ،اس قسم کی آیات اور ان جیسی دوسری نصوص کا مفہوم عام ہے، اور ان تمام مخلوقات اور وسائل کو شامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لیے مسخر فرمایا ہے، اسی عموم کے تحت مصنوعی ذہانت اور اس کے مختلف ٹولز سے جائز مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانے کی گنجائش بھی شامل ہے،اسی طرح علم اور اہل علم کی فضیلت پر دلالت کرنے والی قرآنی و شرعی نصوص بھی مصنوعی ذہانت کی مشروعیت کے دلائل میں ذکر کی جاسکتی ہیں،احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کی قدر و فضیلت کا ایک اہم معیار اس کا نفع بخش ہونا ہے، مصنوعی ذہانت اپنے جائز استعمال میں انسانیت کے لیے منفعت،راحت اور سہولت کا ذریعہ بن سکتی ہے؛ اس لیے اسے مفید علوم کے دائرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی مشروعیت کی ایک بنیاد مصلحت بھی ہوسکتی ہے ،اسلامی شریعت میں مصالح کی رعایت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے؛ کیونکہ شریعت کے احکام کی اساس مصالح کے حصول اور مفاسد کے ازالے پر قائم ہے، یعنی جلب مصالح اور دفع مفاسد(1) مصنوعی ذہانت کی مشروعیت پر بعض فقہی قواعد سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے، بالخصوص مشہور فقہی قاعدہ: "الأصل في الأشياء الإباحة"( اشیا میں اصل اباحت ہے)، اس قاعدے کا مفہوم یہ ہے کہ چند نازک چیزوں جیسے عزت وناموس اور قتل وخون وغیرہ کے مسائل کو چھوڑ کر ہر چیز، تصرف اور سرگرمی اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور مباح ہے، جب تک اس کی حرمت یا ممانعت پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہوجائے(2)، علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
’’لست أعلم خلاف أحد من العلماء السالفين في أن ما لم يجئ دليل بتحريمه، فهو مطلق، غير محجور، وقد نص على ذلك كثير ممن تكلم في أصول الفقه وفروعه، وأحسب بعضهم ذكر في ذلك الإجماع يقينًا، أو ظنًّا كاليقين‘‘ (3)
مجھے علمائے سلف میں سے کسی کا اس مسئلے میں اختلاف معلوم نہیں کہ جس چیز کی حرمت پر کوئی دلیل وارد نہ ہوئی ہو، وہ مباح اور غیر ممنوع ہے، اصول فقہ اور فروع فقہ پر کلام کرنے والے بہت سے اہل علم نے اس کی صراحت کی ہے، اور میرا خیال ہے کہ ان میں سے بعض نے اس مسئلے میں اجماع بھی نقل کیا ہے، یا کم از کم ایسا گمان ظاہر کیا ہے جو یقین کے درجے کے قریب ہے۔
اس اعتبار سے مصنوعی ذہانت کی بہت سی سرگرمیاں اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہیں، مثلاً پیچیدہ جراحی کے لیے قابل اعتماد طبی روبوٹس کا استعمال، بیماریوں کی تشخیص، طبی تجزیے اور معائنے، علاج تجویز کرنے میں معاونت، بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانا، خطرناک طبی، صنعتی اور کیمیائی فضلات کی تلاش و صفائی، نیز ایسے دقیق اور ٹیکنیکل کام انجام دینا جو انسانی صلاحیت سے باہر ہوں یا جن میں انسانوں کی جان و صحت کو نمایاں خطرات لاحق ہوں،البتہ اگر مصنوعی ذہانت کی کسی ٹیکنالوجی کا مقصد ہی ناجائز ہو، مثلاً پیسوں کی چوری کے لیے برقی کھاتوں (Electronic Accounts) میں غیر مجاز دراندازی، یا ذاتی معلومات چرانے کے لیے موبائل فونز میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی ٹیکنالوجی، تو ایسی ٹیکنالوجی شرعاً جائز نہیں ہوگی؛ کیونکہ وہ ایک حرام مقصد تک پہنچانے کا وسیلہ ہے، شرعی اصول ہے: "للوسائل حكم المقاصد" (4) (وسائل کا حکم ان کے مقاصد کے تابع ہوتا ہے)، شیخ عز الدین بن عبد السلام فرماتے ہیں:
’’للمصالح والمفاسد أسباب ووسائل وللوسائل أحكام المقاصد من الندب والإيجاب والتحريم والكراهة والإباحة‘‘(5)
(مصالح و مفاسد کے کچھ اسباب و وسائل ہوتے ہیں، اور وسائل پر مقاصد ہی کے احکام جاری ہوتے ہیں؛ لہٰذا وہ مقصد کے لحاظ سے مندوب، واجب، حرام، مکروہ یا مباح ہوتے ہیں)
لہٰذا جو وسیلہ کسی حرام مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیا جائے، وہ بھی اسی مناسبت سے ممنوع ہوگا، اس بنا پر مصنوعی ذہانت کی ہر وہ ٹیکنالوجی ناجائز ہوگی جسے شرعی ممنوعات پر مشتمل سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے، مثلاً جعلی صوتی و تصویری مواد (Deepfake) تیار کرنا، جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسی فرضی ویڈیوز بنائی جائیں جن میں حقیقی یا قانونی شخصیات کو ایسے افعال کرتے ہوئے دکھایا جائے جو انہوں نے حقیقت میں انجام نہ دیے ہوں، اور اس کا مقصد ان کی بدنامی، انہیں بلیک میل کرکے مالی منفعت حاصل کرنا، یا انہیں کسی مخصوص فریق کے حق میں رعایت دینے پر مجبور کرنا ہو، ایسی ٹیکنالوجی اور اس کا یہ استعمال شرعاً جائز نہیں ہوگا۔
اسی اصول کے تحت مصنوعی ذہانت کو معاشرے میں خرافات پھیلانے، نجوم و کہانت اور جادو ٹونے جیسے امور کے فروغ کے لیے استعمال کرنا ناجائز ہوگا، اسی طرح ایسے ویڈیو گیمز جن میں عقیدے کے منافی سرگرمیاں شامل ہوں، مثلاً کھلاڑی کو خانۂ کعبہ جیسے شبیہ کی طرف گولہ یا گولی چلانے، یا کسی بت کے سامنے سجدہ کرنے کا پابند کیا جائے، یہ بھی ناجائز ہوگا، اس ضمن میں مشہور مخرب اخلاق ویڈیو گیم PUBG کے ایک فیچر کا ذکر کیاجاسکتا ہے، جسے بعد کے شدید ردّعمل کے بعد متعلقہ کمپنی نے 2020 میںواپس لے لیا تھا، اسی اصول کے تحت مصنوعی ذہانت کو فحش مواد کی تیاری، ترمیم، تشہیر یا ترویج، حرام جنسی تعلقات کے فروغ، تفریح یا اشتہارات کے نام پر جھوٹ کوعام کرنے، حقائق کو مسخ کرنے، نیز شہوانی جذبات کو ابھارنے والے جنسی روبوٹس کی تیاری کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا، اسی طرح مصنوعی ذہانت کو گالی گلوچ، لعن طعن، تہمت، آبرو ریزی اور فحش و نازیبا کلمات یا ان کے اشاروں، تصاویر اور علامتوں کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع ہے، اگرچہ مصنوعی ذہانت یا مشین بذات خود شرعی احکام کی مکلف نہیں، لیکن اسے بنانے، ڈیزائن کرنے، ان کی پروگرامنگ کرنے اور استعمال کرنے والا انسان مکلف ہے؛لہٰذا مصنوعی ذہانت کے ذریعے سرزد ہونے والے غیر اخلاقی اور حرام افعال کی شرعی ذمہ داری متعلقہ انسانی فاعل پر عائد ہوگی۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت کی مدد سے انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹس بنانا، ان کا ڈیزائن تیار کرنا، فحش مواد و معلومات نشر کرنا یا ان کی تشہیر کرنا بھی شرعاً ممنوع ہوگا،شیخ عبداللہ بن بیہ مصنوعی ذہانت کو اخلاقی حدود کا پابند بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
"إن من المهم إسناد تقنيات الذكاء الاصطناعي بالأخلاق والتضامن والتعاون ليكون المنتج قليل الضرر كثير النفع، كما أن الإطار الأخلاقي المقترح يمكن أن يكون بمثابة الكوابح التي تحمي السيارات من الاصطدام والدمار، أو البوصلة التي ترشد السفن في خضم البحار، ولذلك فإن المطلوب اليوم هو صحوة ضمير تقود إلى التحكم في النتائج غير المرغوبة للذكاء الاصطناعي بحيث تكون هناك رقابة على الذكاء الاصطناعي من نفسه، وبالجملة فإن القوانين والجهات المنظمة يجب أن تضع المعايير التي تضمن منع وقوع الضرر على الأفراد والمجتمعات من قبل الشركات المطورة لتطبيقات الذكاء الاصطناعي"(6)
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو اخلاق، باہمی تعاون اور یک جہتی کی بنیاد فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کے نقصانات کم اور فوائد زیادہ ہوں، مجوزہ اخلاقی نظام کی حیثیت ایسے بریک کی سی ہوسکتی ہے جو گاڑیوں کو تصادم اور تباہی سے بچاتا ہے، یا اس قطب نما کی جو سمندروں میں جہازوں کی رہنمائی کرتا ہے، آج ایسی بیدار اخلاقی حس کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت کے غیر مطلوبہ نتائج کو قابو میں رکھے، نیز قوانین اور نگران اداروں کو ایسے معیارات مقرر کرنے چاہییں جو مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز تیار کرنے والی کمپنیوں سے افراد اور معاشروں کو پہنچنے والے نقصانات کی روک تھام یقینی بنائیں۔
روبوٹ کا شرعی حکم
روبوٹ گو کہ بغیر مصنوعی ذہانت کے بھی بنتے ہیں،لیکن اے آئی روبوٹ کو زیادہ خود کار اور متنوع کام کے لائق بناتا ہے؛اس لیے اے آئی کی بحث میں اس کا بھی ذکر آتا ہے،جانداروں کی تصویر سازی کی حرمت پر قرآن وحدیث میں بے شمار دلائل ہیں ،اور اس سلسلے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان میں بعض احادیث میں اس حرمت کی علتیں بھی بیان کی گئی ہیں، جبکہ بعض میں علت کی صراحت نہیں کی گئی ہے، اس بنا پر راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو مکمل انسانی ساخت و ہیئت میں ڈھالنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ ان خاموش اور بے حرکت مجسموں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے کہیں زیادہ شدید اور نمایاں مشابہت ہے، جن کے بنانے سے شریعت نے منع کیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت قرار دیا ہے؛ اس لیے کہ جسے انسانی مشینی آلہ (Robot) کہا جاتا ہے، وہ ایک ایسی متحرک اور بولنے والی، بلکہ بسا اوقات بظاہر سوچنے والی ٹیکنالوجی ہے، جس میں ایسے سافٹ ویئرداخل کیے جاتے ہیں جو اسے نقل وحرکت اور معاملات کی انجام دہی کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں،یہ معاملہ ان جنسی روبوٹس (Sex Robots) کے تناظر میں مزید واضح ہوجاتا ہے، جو مکمل جنسی تعلق میں بیوی یا شوہر کا کردار ادا کرتے ہیں، بلکہ اس تعلق کے ’’مقدمات‘‘ میں بھی شریک ہوتے ہیں، مزید برآں یہ روبوٹس جنسی جذبات کو بھڑکانے، حرام شہوتوں کو عام کرنے اور جنسی بے راہ روی کی دلدل میں گرانے کا ذریعہ بنتے ہیں؛ اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے نتیجے میں مرد و عورت، دونوں جنس میں نکاح سے بے رغبتی پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا جارہا ہے۔
پھر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے حاصل کیے جانے والے فوائد اور مطلوبہ مقاصد عموماً روبوٹ کی ظاہری ہیئت یا شکل پر موقوف نہیں ہوتے؛ تو پھر ان ٹیکنالوجیز کو انسانی شکل ہی میں ڈھالنے پر اصرار کیوں کیا جائے؟ البتہ اگر بعض حالات میں ان ٹیکنالوجیز کو انسانی ہیئت میں بنانا ناگزیر ہو، مثلاً بعض صورتوں میں امدادی کارروائیوں یا بعض طبی شعبوں میں، تو ایسی صورت میں حکم شریعت میں مقررہ ضرورت کے اصولوں پر مبنی ہوگا،اور اگر معاملہ درجۂ ضرورت تک نہ پہنچے، بلکہ صرف حاجت کے درجے میں ہو، تب بھی حاجت کو ضرورت کے قائم مقام قرار دیا جاتا ہے؛لہٰذا ایسی صورت میں ضرورت یا حاجت کو حرمت کے عمومی اصول سے مستثنیٰ قرار دیا جاسکتا ہے، البتہ اس کے لیے چند شرائط ہیں، جن میں اہم یہ ہیں:اول یہ کہ ضرورت کو دور کرنے یا حاجت پوری کرنے کے لیے یہی ٹیکنالوجی متعین ہو اور اس کاکوئی ایسا متبادل موجود نہ ہو جو وہی مقصد حاصل کرسکے، دوم یہ کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ضرورت کے ازالے یا حاجت کی تکمیل کا یقین ہو یا کم از کم غالب گمان ہو، محض ظن و تخمین یا وہم کی بنیاد پر مکمل انسانی اعضاء و ہیئت میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بنانا جائز نہیں ہوگا،سوم یہ کہ صرف اتنی ہی مقدار پر اکتفا کیا جائے جتنی ضرورت کے ازالے کے لیے ناگزیر ہو(7)۔
مصنوعی ذہانت اور ضرر رسانی سے تحفظ
مصنوعی ذہانت کے لیے ایک بنیادی شرعی ضابطہ یہ ہے کہ اس کی تیاری اور استعمال سے افراد، معاشروں اور ریاستوں کوناقابل تلافی نقصان نہ پہنچے، اور نہ ایسی صورت پیدا ہو جو انفرادی، اجتماعی یا عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن جائے،اسلامی شریعت نے ابتداءً ضرر پہنچانے اور باہمی ضرر رسانی دونوں کو ممنوع قرار دیا ہے، چنانچہ مصنوعی ذہانت کے جواز میں بھی یہ بنیادی اصول ملحوظ رہے گا کہ اس کے ذریعے کسی فرد یا معاشرے کے دین حق، جان، مال، عزت، حقوق یا اجتماعی مفادات کو نقصان نہ پہنچایا جائے، ان اصولوں کی بنا پر مصنوعی ذہانت کی ہر وہ ٹیکنالوجی ممنوع ہوگی جس کی تیاری، پروگرامنگ یا استعمال سے افراد یا معاشرے کو نقصان پہنچتا ہو (8)اس میں خصوصاً ایسے روبوٹس شامل ہیں جو انسانوں کو قتل یا زخمی کرنے، اعضا کو نقصان پہنچانے یا گھروں، کھیتوں اور دیگر املاک کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے جائیں(9) ،اسی طرح مصنوعی ذہانت کا ایسا استعمال بھی ممنوع ہوگا جس سے نفسیاتی یا معنوی ضرر پہنچے، مثلاًکسی کی بلیک میلنگ،اس کو بدنام کرنایا خوف زدہ کرنا وغیرہ۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ایک ممکنہ نقصان بے روزگاری میں اضافہ ہے؛ کیونکہ بہت سے علمی و عملی مہارت والے کام تیز رفتار اور زیادہ دقیق مشینی نظاموں کے سپرد کیے جاسکتے ہیں، بے روزگاری کا پھیلاؤ بعض معاشرتی جرائم، مثلاً منشیات کے استعمال و تجارت اور منظم جرائم میں اضافےکا سبب بن سکتا ہے، جس کے منفی اثرات افراد اور معاشرے دونوں پر مرتب ہوتے ہیں،اسی طرح مصنوعی ذہانت کی وہ ٹیکنالوجیز جن پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسانی عقلی و فکری صلاحیتوں کو کمزور کردے، ان کے استعمال کو محدود کیا جانا چاہیے یا ان میں ایسے پروگرام شامل کیے جائیں جو صارفین کی ذہنی صلاحیتوں اور فکری مہارتوں کو فروغ دیں ،مصنوعی ذہانت کا ایسا استعمال بھی ممنوع ہوگا جو افراد یا معاشروں کو اقتصادی نقصان پہنچائے، مثلاً مالیاتی منڈیوں یا کرنسی کی قیمتوں میں غیر قانونی ہیرا پھیری، یا سائبر کارروائیوں کے ذریعے مالیاتی نظاموں اور ان کے کمپیوٹرز کو نقصان پہنچانا، ان خطرات کے سدّباب کے لیے ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عمومی حفاظتی ضوابط کا پابند بنایا جائے اور اس میں ایسے تکنیکی پروگرام اور نگرانی کے نظام قائم کیے جائیں جو نقصان دہ سرگرمیوں کو روکیں اور اس کے استعمال کو مفید مقاصد تک محدود رکھیں۔
اس تکنیکی نگرانی کے ساتھ انسانی ذمہ داری بھی متعین ہونی چاہیے؛ چنانچہ مصنوعی ذہانت بنانے، ڈیزائن کرنے، پروگرام کرنے یا استعمال کرنے والے شخص کو اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کا دیوانی طور پر ذمہ دار قرار دینا جائز ہوگا، اس ضمن میں نظریۂ انسانی نائب (Human Agent Theory) کے تحت مصنوعی ذہانت کے افعال کی ذمہ داری متعلقہ انسان پر عائد کی جاسکتی ہے، یا متبوع کو اپنے تابع کے افعال سے پیدا ہونے والے نقصان کا ذمہ دار قرار دینے کے قانونی اصول سے استفادہ کیا جاسکتا ہے(10)،جہاں تک فوجداری ذمہ داری کا تعلق ہے، مصنوعی ذہانت سے متعلق جرائم میں انسانی فاعل پر مناسب تعزیری سزا عائد کی جاسکتی ہے، البتہ شبہ کی وجہ سے حدود کے سطح کی سزاؤں کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔
اسلامی شریعت نے امن و سلامتی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، قرآن و سنت میں امن کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا گیا ہے، انسانی تاریخ میں بعض سائنسی ایجادات فائدے کے ساتھ سنگین خطرات کا سبب بھی بنی ہیں؛ بارود سے لے کر جوہری ہتھیاروں تک اس کی مثالیں موجود ہیں ،مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی یہ اندیشہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ اس کی ترقی ایسی سطح تک نہ پہنچے جہاں انسان اس کے فیصلوں اور سرگرمیوں پر مؤثر کنٹرول کھو بیٹھے،ان دنوں یہ موضوع ماہرین کے درمیان زیر بحث ہے؛ لہٰذا شرعی نقطۂ نظر سے مصنوعی ذہانت کا نظام اس طرح تشکیل دیا جانا واجب ہوگا کہ وہ اپنے بنانے والے، پروگرامر یا مجاز استعمال کنندہ کے مؤثر انسانی کنٹرول میں رہے، اور ضرورت کے وقت اس کی سرگرمی میں مداخلت، اسے روکنے اور ایسے فیصلوں پر عمل درآمد سے باز رکھنے کی صلاحیت موجود ہو جو افراد،معاشروں، ریاستوں یا مجموعی طور پر انسانیت کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں،مصنوعی ذہانت کے خطرناک ترین استعمالات میں عسکری ٹیکنالوجی سرفہرست ہے، بالخصوص ایسی خودکار مشینیں جن پر انسانی کنٹرول کمزور یا ختم ہوجائے اور وہ بڑے پیمانے پر جانی و مالی تباہی کا باعث بنیں،اسی طرح ریاستوں کے درمیان سائبر حملے (Cyber Attacks)، جاسوسی کے پروگرام اور دفاعی تنبیہی نظاموں کے کمپیوٹرز کو ناکارہ بنانا بھی قومی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے،مصنوعی ذہانت کے غیر منضبط استعمال سے پیدا ہونے والے اہم خطرات میں برقی دہشت گردی (Cyber Terrorism) بھی شامل ہے ، اس میں مصنوعی ذہانت کو دہشت گرد تنظیموں کی ویب سائٹس بنانے، اشتعال انگیز مواد پھیلانے، افراد کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے بھرتی کرنے، نیز ہتھیاروں اور دھماکہ خیز آلات کی تیاری سے متعلق خطرناک مواد کی اشاعت جیسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،اسی طرح مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز کو شہری آبادی، خصوصاً خواتین اور بچوں پر دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ تمام صورتیں انسانی جان اور اجتماعی امن کو شدید نقصان پہنچانے کے باعث شرعاً ممنوع استعمالات میں داخل ہوں گی۔
ایک اور خطرہ مصنوعی ذہانت کو قتل، قتل کی سیاسی واردات اور خون خرابے کے لیے استعمال کرنا ہے، چہرہ شناسی اور خودکار شناخت جیسی صلاحیتوں کو ڈرون یا روبوٹ میں شامل کرکے مخصوص افراد کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جس سے ایسی کارروائیاں زیادہ مخفی ہوسکتی ہیں،اور ان کا سراغ لگانا دشوار ہوسکتا ہے، چنانچہ مصنوعی ذہانت کی تیاری اور استعمال میں ایسے مؤثر حفاظتی اور قانونی ضوابط واجب کے درجہ میں ہیں جو اسے انسانی جان اور امن کے خلاف استعمال ہونے سے روک سکیں۔
مصنوعی ذہانت کا ایک سنگین خطرہ ایسی خودکار عسکری کارروائیاں ہیں جو مؤثر انسانی کنٹرول سے باہر ہوں اور جن میں جنگ سے متعلق قانونی و اخلاقی ضوابط کی رعایت یقینی نہ رہے، یہ خطرہ خصوصاً اس وقت بڑھ سکتا ہے جب مصنوعی ذہانت تکنیکی انفرادیت (Technological Singularity) کے مرحلے تک پہنچ جائے، یعنی ایسی سطح جہاں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں غیر معمولی طور پر خود مختار اور تیز رفتار ہوجائیں(11)، ایک طبی تحقیقی مطالعے میں مصنوعی ذہانت سے انسانی صحت کو لاحق خطرات کی تین نمایاں صورتیں بیان کی گئی ہیں: انسانوں کو کنٹرول اور ان کے رویوں کو متاثر کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت، مہلک ہتھیاروں کی قوت میں اضافہ اور ان کا غیر انسانی استعمال، اور انسانی محنت و افرادی قوت کا بتدریج غیر ضروری ہوجانا، مزید یہ کہ خود کو ترقی دینے والی عمومی مصنوعی ذہانت (AGI) کو انسانیت کے وجود کے لیے ممکنہ خطرے کے طور پر بھی زیر بحث لایا گیا ہے، جس کا صرف خلاصہ Abstract پیش کرنے پر یہاں اکتفا کیا جاتا ہے، وہ لکھتے ہیں :
اگرچہ مصنوعی ذہانت صحت ا ور طب کے میدان میں امید افزا حل اور امکانات پیش کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ انسانی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے متعدد خطرات بھی پیدا کرتی ہے، بالخصوص ان سماجی، سیاسی، معاشی اور سلامتی سے متعلق عوامل کے ذریعے جو انسانی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں،ہم یہاں ان تین بنیادی صورتوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں محدود دائرۂ کار کی مصنوعی ذہانت (Narrow AI) کا غلط استعمال انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے: پہلی صورت یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسانوں کو قابو میں رکھنے، ان کی نگرانی کرنے اور ان کے رویوں اورفیصلوں پر اثر انداز ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے؛ دوسری یہ کہ یہ مہلک ہتھیاروں کی صلاحیت میں اضافہ کرکے جنگ اور قتل کے عمل کو مزید غیر انسانی بنا سکتی ہے؛ اور تیسری یہ کہ انسانی محنت اور افرادی قوت کو بتدریج غیر ضروری اور بے کار بنا سکتی ہے،اس کے بعد ہم خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھنے والی مصنوعی عمومی ذہانت (Artificial General Intelligence: AGI) کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ایسی ٹیکنالوجی کس طرح خود انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے،آخر میں ہم مصنوعی ذہانت کے مؤثر ضابطہ و نگرانی کی شدید ضرورت پر گفتگو کرتے ہیں، جس میں مصنوعی ذہانت کی بعض اقسام اور اس کے بعض استعمالات کی ممانعت بھی شامل ہے۔ نیز ہم ان مطالبات کی تائید کرتے ہیں جن میں خود کو مسلسل بہتر بنانے والی مصنوعی عمومی ذہانت (Self-improving AGI) کی تیاری و ترقی پر عارضی پابندی (Moratorium) عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،ہم طبی اور صحتِ عامہ سے وابستہ حلقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محفوظ مصنوعی ذہانت کے لیے شواہد و حقائق پر مبنی مؤثر جدوجہد میں شریک ہوں اور اس سلسلے میں اصول احتیاط (Precautionary Principle) کو بنیادی رہنما اصول کے طور پر اختیار کریں۔ (۱۲)
ان خطرات کے تدارک کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ عسکری مصنوعی ذہانت پر انسانی نگرانی، رہنمائی اور حتمی اختیار برقرار رہے، تاکہ ضرورت کے وقت اس کی نقصان دہ صلاحیتوں کو فوری طور پر معطل کیا جاسکے، اسی طرح ایسی تحقیق کی ضرورت ہے جس کے ذریعے جنگ کے قانونی اصولوں اور اخلاقی ضوابط کو الگورتھم (Algorithm) اور پروگراموں میں تبدیل کرکے خودکار عسکری نظاموں کا حصہ بنایا جائے، تاکہ مشین کی سرگرمیاں متعین قانونی و اخلاقی حدود سے تجاوز نہ کرسکیں، مزید برآں ایسے پروگرام اور الگورتھم تیار کیے جائیں جو اہم تنصیبات اور نظاموں کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھ سکیں، خصوصاً ان حملوں سے جو ریڈار کے نظام میں خلل ڈالنے، ڈرونز کا رخ تبدیل کرنے یا دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
مصالحِ عامہ اور مقاصد شریعت کی رعایت
اسلامی شریعت کی بنیاد مصالح کے حصول و تکمیل اور مفاسد کے ازالے و تقلیل پر ہے،اسی اصول کی بنا پر مصنوعی ذہانت کی تیاری اور استعمال میں مصالح عامہ اور مقاصد شریعت کی رعایت ضروری ہے؛ کیونکہ شریعت کے احکام کا مقصود انسان کی دنیا و آخرت کی فلاح اور مصالح کا تحفظ ہے، مقاصدِ شریعت میں بعض عمومی ہیں جو تمام فقہی ابواب میں جاری ہوتے ہیں، اور بعض مخصوص احکام و مسائل سے متعلق ہیں؛ لہٰذا مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بھی ایسی ہونی چاہیے جو شرعی مصالح کو حاصل کرے اور مقاصد شریعت سے ہم آہنگ ہو۔
مصالح کا حصول اور مفاسد کا ازالہ
شریعت میں مصلحت کو احکام کے استنباط میں اہم اعتبار حاصل ہے؛ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو مباح قرار دیا ہے اس میں غالب پہلو نفع کا، اور جسے حرام قرار دیا ہے اس میں غالب پہلو ضرر کا ہوتا ہے،شریعت میں واضح ہے کہ شریعت کے احکام انسانی مصالح کے حصول اور مفاسد کے ازالے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں؛ لہٰذا مصنوعی ذہانت کی شرعی حیثیت متعین کرتے وقت بھی اس کے فوائد و نقصانات اور مصالح و مفاسد کو بنیادی معیار کے طور پر ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا، شریعت نے جس طرح جلبِ مصالح کو ملحوظ رکھا ہے، اسی طرح دفعِ مفاسد کو بھی احکام کی بنیاد بنایا ہے؛ اور مفسدے کو دور کرنا بالآخر مصلحت ہی کا حصول ہے۔
اسی اصول پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے شرعی جواز کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی معتبر مصلحت کو حاصل کرنے والی اور مفسدے سے خالی یا اس سے محفوظ ہو، اگر کسی ٹیکنالوجی میں فائدہ موجود ہو لیکن اس کا مفسدہ اس فائدے سے زیادہ ہو تو محض فائدے کا ہونا اسے مطلق جائز نہیں بنادے گا، اسی سے فقہاء نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے: "درء المفاسد أَولى من جلب المصالحِ"(مفاسد کو دور کرنا مصالح حاصل کرنے سے مقدم ہے)،علامہ ابن نجیم فرماتے ہیں:
"درء المفاسد أولى من جلب المصالح، فإذا تعارضت مفسدة ومصلحة قدم دفع المفسدة غالباً؛ لأن اعتناء الشرع بالمنهيات أشد من اعتنائه بالمأمورات، ولذا قال عليه السلام: "إذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم، وإذا نهيتكم عن شيء فاجتنبوه"(13)
مفاسد کو دور کرنا مصالح کے حصول سے زیادہ مقدم ہے؛ لہٰذا جب کسی مفسدے اور مصلحت میں باہم تعارض واقع ہو تو عموماً مفسدے کو دفع کرنے کو ترجیح دی جائے گی؛ کیونکہ شریعت نے ممنوعات سے اجتناب کا اہتمام، مامورات کی بجا آوری کے اہتمام سے زیادہ کیا ہے، اسی بنا پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے بجا لاؤ، اور جب تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اس سے اجتناب کرو‘‘۔
لہٰذا اگر مصنوعی ذہانت کا کوئی فائدہ مساوی یا غالب مفسدے کے بغیر حاصل نہ ہوسکے تو ایسے استعمال سے اجتناب کیا جائے گا؛ اور جس ٹیکنالوجی میں خالص مفسدہ ہو، اس کی تیاری، ڈیزائننگ، پروگرامنگ اور استعمال سب ممنوع ہوں گے، اس کی ایک مثال مصنوعی ذہانت پر مبنی ہیکنگ (Hacking) ہے، جیسے خودکار گاڑی کے نظام یا کنٹرول کو ہیک کرکے اسے حادثہ یا کسی تخریبی کارروائی کے لیے استعمال کرنا، اور اس قسم کے خطرات عام طور سے اے آئی کے ماہرین محسوس کررہے ہیں اور اس کا اظہار کررہے ہیں، صدیقی محمد شکیب لکھتے ہیں:
’’ AI میں موجود تعصبات اور عدم مساوات کا پہلو بھی نہایت اہم ہے؛ چونکہ AI سسٹمز ماضی کی معلومات پر تربیت حاصل کرتے ہیں، اس لیے اگر وہ معلومات خود تعصبات کا شکار ہوں تو یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ AI بھی انہی تعصبات کو آگے منتقل کرے گی، مثلاً، اگر کسی کمپنی نے ماضی میں بھرتیوں کے دوران خواتین کو ترجیح نہیں دی، تو اس پر تربیت یافتہ AI بھی خواتین کے امیدواروں کے خلاف غیر ارادی تعصب کا مظاہرہ کر سکتی ہے، اسی طرح، چہرے کی شناخت کے کئی نظام ایسے سامنے آئے ہیں جو گہرے رنگت والے چہروں کو پہچاننے میں ناکام رہے، کیونکہ ان کی تربیت زیادہ ترہلکی جلد والے چہروں پر ہوئی تھی، یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کیونکہ یہ AI کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں کی شفافیت اور اعتماد کو متاثر کرتی ہے‘‘(14)۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق ممنوع اور مفسدہ آمیز استعمالات میں نگرانی کے نظاموں کی ہیکنگ بھی شامل ہے، مثلاً بنیادی تنصیبات میں خلل ڈال کر بجلی کا نظام بند کرنا یا ٹریفک کے نظام کو متاثر کرکے شدید ازدحام پیدا کرنا، اسی طرح فضائی سفر کے معلوماتی و انتظامی نظاموں میں مداخلت کرکے پروازوں میں خلل انداز ہونا اسی حکم میں داخل ہے، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی خودکار گاڑیوں اور دیگر آلات میں حفاظتی شرائط کو نظر انداز کرنا بھی ممنوع ہوگا، جب اس کے نتیجے میں اموات، جسمانی نقصان یا اموال کی تباہی کا غالب اندیشہ ہو(15)۔
مصنوعی ذہانت کا غیر معمولی اور حد سے زیادہ استعمال انسان کو اس کے سماجی ماحول سے دور اور باہمی تعلقات کو کمزور کرسکتا ہے، بلکہ بعض صورتوں میں یہ استعمال عادت یا لت کی صورت اختیار کرکے بات چیت کی قوت اور سماجی ذہانت (Social Intelligence) میں کمی کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنا واجب ہوگا،اس کے ذریعے انسانی جینوم (Human Genome) میں ایسی تبدیلیاں کرنا بھی ممنوع ہوگا جن کا مقصد انسانی صلاحیتوں اور نفسیاتی کیفیت میں منفی تصرف ہو، مثلاً انسان کو زیادہ جارح، تشدد پسند، سست یا افسردگی کی طرف مائل بنانا؛ البتہ بیماریوں اور سرطان کے خلیات کے علاج کے لیے کی جانے والی مفید جینیاتی تبدیلیاں اس سے مستثنیٰ ہوں گی(16) ۔
مصنوعی ذہانت کے اہم فوائد
مصنوعی ذہانت کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے پاس محفوظ وسیع معلومات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر صارف کو مناسب فیصلہ کرنے میں معاونت فراہم کرسکتی ہے، اسی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں موسمی ڈیٹا، فضائی دباؤ اور موسمی نظاموں کا تجزیہ کرکے زیادہ دقیق پیش گوئیاں اور مفید حل پیش کیے جاسکتے ہیں، جن سے افراد اور اداروں کو بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے، مصنوعی ذہانت فضلہ ٹھکانے لگانے، اس کی بازیافت وباز استعمال (Recycling) اور ماحول دوست طریقوں کو فروغ دینے، نیز حرارت اور برودت کے اعتبار سے عمارتوں کے نظام کو بہتر بناکر توانائی کی بچت میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے، تحقیق اور اعداد و شمار کے تجزیے میں مصنوعی ذہانت مختلف وسائل وذخائر سے بڑی مقدار میں معلومات کو جمع کرنے، مرتب کرنے اور تجزیہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے،اور اس طرح وہ ممکنہ صورت حال کی نشان دہی کرسکتی ہے، جس سے اقتصادی، آبادیاتی اور شہری منصوبہ بندی زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے، سرمایہ کاری کے میدان میں یہ منصوبوں کے قابل عمل ہونے کا مطالعہ (Feasibility Study)، منڈیوں کے تجزیے اور بہتر سرمایہ کاری کے مواقع کی شناخت میں معاون ہوسکتی ہے ، اسی طرح صنعتی شعبے میں روبوٹس پیچیدہ کاموں اور اسمبلنگ کے کام زیادہ تیزی اور مہارت سے انجام دے کر وقت، محنت اور اخراجات میں کمی لاسکتے ہیں، بینکاری کے شعبے میں بھی ذہین خود کار نظام صارفین کے معمول کے سوالات کے جوابات دے کر ملازمین کو زیادہ پیچیدہ اور اہم امور کے لیے وقت فراہم کرسکتے ہیں، بینکاری کے شعبے میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظام مختلف زبانیں، مثلاً عربی، فرانسیسی اور انگریزی سیکھ کر صارفین کے بار بار پوچھے جانے والے سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، جس سے ملازمین کا وقت زیادہ اہم اور پیچیدہ امور کے لیے محفوظ رہتا ہے۔
اسی دائرے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ اسسٹنٹس (Smart Assistants)، مثلاً Google Home اور Amazon Alexa کا ذکر بھی آتا ہے، یہ آلات صوتی احکامات وصول کرنے کے لیے مائیکروفون اور متعلقہ نظام استعمال کرتے ہیں، اور بعض آلات یا مربوط نظام بصری معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں، فی نفسہ یہ جائزہے، لیکن اگر ایسی ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے صوتی یا بصری ڈیٹا کو بلا اجازت مسلسل نگرانی، پروفائلنگ (Profiling)، تجارتی استحصال یا جاسوسی کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ شرعی اعتبار سے ممنوع ہوگا(17) ، مزید برآں چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی (Facial Recognition Technology) مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی شخص کی شناخت، اس کے مقاماتِ آمدورفت کی نگرانی اور مسلسل تعاقب (Tracking) کے لیے استعمال ہوسکتی ہے، اس ٹیکنالوجی کو اگر جائز حفاظتی ضرورت کے بجائے کسی فرد کو ہراساں کرنے، نقصان پہنچانے یا غیر قانونی تعاقب کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ بھی ممنوع استعمال میں داخل ہوگا،اس بنا پریہ اے آئی ٹولزفی نفسہٖ محض وسائل ہیں؛ ان کا شرعی حکم ان کے مقصد، طریقۂ استعمال، اجازت، ضرورت اور ان سے پیدا ہونے والے ضرر کے لحاظ سے متعین ہوگا۔
مصنوعی ذہانت اور فکری ملکیت
مصنوعی ذہانت کے استعمال میں علمی دیانت، امانت اور فکری ملکیت کی رعایت بنیادی شرعی تقاضا ہے، تحقیق میں مصنوعی ذہانت سے معلومات کی تلاش، مواد کی ترتیب، زبان کی اصلاح اور تجزیے میں معاونت تو اصولی طور پر جائز ہوگی، لیکن کسی مقالے، تحقیقی رسالے یا علمی کام،یا ،فتوےاور القضا کے فیصلے کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کرا کے اسے اپنی ذاتی علمی کاوش کے طور پر پیش کرنا غش، تدلیس اور علمی خیانت کے دائرے میں آئے گی، بالخصوص جب اس کی بنیاد پر ڈگری، علمی ترقی یا مالی منفعت حاصل کی جائے، اسی طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے دوسروں کے علمی افکار و نتائج کو بلا نسبت اختیار کرنا حقوق فکریہ کی خلاف ورزی اور ناجائز منفعت کا ذریعہ ہے؛ اس لیے علمی و تحقیقی میدان میں مصنوعی ذہانت کا استعمال معاون آلے کی حیثیت سے ہونا چاہیے، نہ کہ ایسی متبادل قوت کے طور پر جو محقق کی اصل علمی محنت، تحلیل اور تحقیق کی جگہ لے لے(18)۔
اے آئی سے استفتا اور شرعی رہنمائی
شریعت کی صحیح تفہیم اور دینی رہنمائی کا اصل سرچشمہ قرآن و سنت ہیں، اور شرعی مسائل میں ان سے حکم اخذ کرنا اہلِ علم کا منصب ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل: 43) ( اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو)،مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) بالخصوص چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور ڈیپ سیک جیسے چیٹ بوٹس، دستیاب معلومات کو مخصوص الگورتھم کے ذریعے جمع، تجزیہ اور مرتب کرکے جواب پیش کرتے ہیں، ان کے پاس انسانی فہم و بصیرت، تقویٰ و دیانت، فقہی ملکہ، سائل کے احوال کی حقیقی واقفیت اور جواب دہی کا شرعی احساس نہیں ہوتا؛ نیز ان کے پیش کردہ مواد کی صحت بھی یقینی نہیں ہوتی؛اس لیے AI کو مفتی، عالم یا مستند دینی مرجع کا متبادل سمجھنا درست نہیں اور محض اس کے جواب پر اعتماد کرکے شرعی حکم یا فتویٰ اخذ نہیں کیا جاسکتا، البتہ اہل علم اسے تحقیق میں معاون آلے کے طور پر، مثلاً مواد کی تلاش، حوالہ جات کی نشان دہی، ترجمہ، تلخیص، ترتیب اور ابتدائی معلومات کے حصول کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، بشرطیکہ حاصل شدہ معلومات کی اصل مصادر سے تحقیق و تصدیق کی جائے(19)۔
حرف آخر:
مصنوعی ذہانت عصر حاضر کی ایک ایسی طاقت ور ٹیکنالوجی ہے جس کے امکانات بھی غیر معمولی ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے شرعی و اخلاقی چیلنجز بھی نہایت اہم؛ اس لیے اسلامی نقطۂ نظر سے نہ اس کی مطلق تائید درست ہے اور نہ مطلق ممانعت، بلکہ اس کے ہر استعمال کو اس کے مقصد، طریقۂ کار اور نتائج کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے، شریعت کے اصولِ کلیہ، قواعد فقہیہ اور مقاصد شریعت اس نئی دنیا میں بھی رہنمائی کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ فقہی تحقیق تکنیکی حقائق کے صحیح تصور، انسانی کرامت، عدل و امانت، حفظ حقوق اور مآلات کے گہرے ادراک کے ساتھ انجام پائے، حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اس بڑھتی ہوئی مشینی قوت کے درمیان اپنی عقل و اختیار، اخلاقی اقدار اور خدا کے حضور اپنی جواب دہی کو کس طرح محفوظ رکھتا ہے، اور اسی اعتبار سے اس کے فقہی احکام میں فرق آتا رہے گا۔
حواشی:
1. الرسالة الندية في القواعد الفقهية، عبد الفتاح مصيلحي، مصر: مكتبة العلوم والحكم، 2018، ص24۔
2. شرح القواعد الفقهية،أحمد الزرقاء، دمشق: دار القلم، 1989، ص481۔
3. مجموع الفتاوى، ابن تيمية، مدینہ منورہ:مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف،1995، ج 21 ، ص 538۔
4. التحفة المكية في توضيح أهم القواعد الفقهية، محمد الشاوي، أوقاف الشيخ محمد بن الصالح الشاوي، 2022، ص161۔
5. الفوائد في اختصار المقاصد، عز الدين بن عبد السلام، دمشق: دار الفكر المعاصر، 1416ھ، ص43۔
6. عربی خطاب: شيخ عبد الله بن المحفوظ بن بيه:
https://binbayyah.net/arabic/archives/
7. شرح منظومة القواعد الفقهية للسعدي، حمد بن عبد الله، ج2،ص12۔
8. استخدامات الذكاء الصناعي، مجلة البحوث الفقهية والقانونية، شمارہ: 39، ص34۔
9. الوقف على تطبيقات الذكاء الاصطناعي ، سعيد بن أحمد فرج، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية، مركز الدراسات الوقفية، شمارہ: 1، 2023، ص 132۔
10.المسؤولية المدنية عن أضرار الروبوتات الالكترونية: دراسة مقارنة، حمزة العسود، مجلة جامعة عمان العربية للبحوث، ص20۔
11.الذكاء الصناعي أحكامه وضوابطه وأخلاقياته، عبد الستار الخويلدي، اے آئی کانفرنس، 2024، ج 1 ، ص 378۔
12. Frederik Federspiel, Ruth Mitchell, Asha Asokan, Carlos Umana & & David McCoy, “Threats by Artificial Intelligence to Human Health and Human Existence,” BMJ Global Health, Vol. 8, No. 5 (2023(
13.الأشباه والنظائر، ابن نجيم، بيروت: دار الكتب العلمية، 1999، ص 78۔
14.مصنوعی ذہانت سب کے لیے،صدیقی محمد شکیب،2025، ص72۔
15. الذكاء الصناعي: أحكامه وضوابطه وأخلاقياته، بدر الحسن قاسمی، ۲۶واں سیمینار، مجمع الفقه الإسلامي الدولي، 2025۔
16.الذكاء الصناعي أحكامه وضوابطه وأخلاقياته، زید جمال البرزنجي، اے آئی کانفرنس، 2024، ج 1، ص 272۔
17.انتهاك الخصوصيةفي تقنيات الذكاء الاصطناعي، حصة أحمد التويم، سوہاج یونیورسٹی، شمارہ: 16، ج3، ص845۔
18.الذكاء الصناعي أحكامه وضوابطه وأخلاقياته، سعد بن تركي ، ۲۶واں سیمینار، مجمع الفقه الإسلامي الدولي، 2025، ج 1، ص 170۔
19.دیکھئے: اسلامی وراثتی قوانین اور مصنوعی ذہانت: ایک تجزیاتی مطالعہ، محمد زبیر عباسی وماہر جمیل،اسلام آباد:سہ ماہی فکر ونظر،جلد63،شمارہ1،جولائی۔ستمبر،2025،مزید دیکھئے:جامعۃ العلوم الاسلامیہ،علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کا فتوی:
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/144708102375/17-02-2026
تحقیقات شرعیہسہ ماہی علمی و تحقیقی مجلہ