مجلس تحقیقات شرعیہتحقیقات شرعیہسہ ماہی علمی و تحقیقی مجلہ

سرورق ‹ قانون کی تشکیل میں عرف ورواج کی قانونی حیثیت

قانون کی تشکیل میں عرف ورواج کی قانونی حیثیت

۹۶

قانون کی تشکیل میں عرف ورواج کی قانونی حیثیت

اسلامی قانون اور جدیدقانونی نظام کاتقابلی مطالعہ

مولانامنورسلطان ندوی

(استاذفقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)

قانون اور سماج کاگہراتعلق ہے،قانون جہاںسماج کی اصلاح کے لئے ہوتاہے،وہیں سماج کے صالح رویئے اکثرقانون کی شکل اختیارکرلیتے ہیں،کوئی سماجی رویہ کسی علاقے میں تسلسل کے ساتھ عرصہ تک جاری رہے اور وہ رویہ سماج کی کسی اچھائی کی نمائندہ کرے،تواس رویہ کویہ مقام ملناچاہئے کہ وہ آئندہ کے لئے بھی سماج کی اچھائی کامعیاربنے،لیکن اس کامطلب یہ ہرگزنہیں ہے کہ ہرسماجی رویہ کے اندرمعیاربننے کی صلاحیت موجود ہے۔

اس تناظرمیں ہم دیکھتے ہیں کہ قوانین کی تشکیل میں سماجی روایات اورلوگوں کی عرف عادت کابڑادخل ہوتاہے،اسلامی قانون میں سماجی رویے عرف وعادت کے نام سے معروف ہیں،جبکہ جدید قانونی نظام میں اسے کسٹم کے نام کہاجاتاہے۔

قبائلی دورمیں اور اس کے بعد تہذیبی ارتقاکے ادوارمیں عرف اور کسٹم انسانی سماج کی بنیادی تصورات کے طورنظرآتے ہیں،اور ہمیشہ اسے سماجی تعلقات کواستوارکرنے اور سماجی انصاف کے لئے بنیادی سرچشمہ کے طورپردیکھاجاتارہاہے،چنانچہ پہلامدون قانون حمورابی میں قدیم روایات کااثرواضح طورپرنظرآتاہے،جبکہ روما کے قوانین میں عرف کوبنیادی مآخذکادرجہ حاصل تھا،بعد میںبرطانیہ اور فرانس کے قوانین میں بھی عرف وکسٹم کو بنیادی درجہ دیاگیا۔

قانونِ حمورابی (Code of Hammurabi) کی تشکیل میں جہاں شاہی اقتدار اور کاتبین کی روایات کا عمل دخل تھا، وہیں اس کی بنیاد بین النہرین (Mesopotamia) کی ان ہزاروں سالہ قدیم تحریری و غیر تحریری روایات اور عرفی فیصلوں پر تھی جو وہاں کے سماج میں انصاف اور باہمی معاملات کا طے شدہ پیمانہ تھے۔ حمورابی نے ان مروجہ مقامی رسوم و رواج کو یکسر رد کرنے کے بجائے انہیں ایک ضابطے کی شکل دی، جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ابتدائی دور میں قانون کی تشکیل بنیادی طور پر سماجی عرف کی مرہونِ منت تھی۔

Pamela Barmash کی کتاب The Laws of Hammurabi: At the Confluence of Royal and Scribal Traditionsمیں یہ وضاحت موجود ہے کہ حمورابی کا قانون قدیم بین النہرین کی قانونی روایات اور پہلے سے رائج روایتی مقدمات و اصولوں سے تشکیل پایا تھا۔(۱)

اسی طرح قدیم رومی قانون (Roman Law) کی تاریخ میں بھی عرف (Custom یا Mos Maiorum یعنی اجداد کے طور طریقے) کو قانون کے بنیادی مآخذ کا درجہ حاصل تھا۔ رومی سلطنت کے ابتدائی ایام میں جب باقاعدہ قانون سازی کا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا، تو معاشرتی معاملات اور باہمی تنازعات کے فیصلے انہی رومی روایات اور عرفِ عام کے تحت کیے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ بارہ تختیوں کے قانون (Twelve Tables) کی تدوین میں بھی بڑی حد تک انہی قدیم رومی رسوم و رواج کو تحریری شکل دی گئی تھی۔ آگے چل کر انگریزی اور فرانسیسی قانونی نظاموں نے بھی کسٹم کو اپنے اندر سمویا، جس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انسانی تہذیب کے ہر دور میں عرف قانون کے ارتقا کا سب سے پہلا اور بنیادی زینہ رہا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ ان مختلف قانونی نظاموں میں عرف وکسٹم کویکساں حیثیت حاصل نہیں تھا۔

اسلامی قوانین کی تشکیل میں عرف کابڑاکردارہے،اسلامی قوانین کابنیادی سرچشمہ چونکہ وحی الہی یعنی قرآن وسنت ہے،اس لئے یہاں عرف وعادت اور کسٹم کو بنیادی درجہ تونہیں دیاگیاالبتہ اسے ثانوی مصادرضرورشامل کیاگیا۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جدیدقوانین اوراسلامی قوانین دونوں کی تشکیل میں عرف وعادت اور کسٹم کابڑاکردارنظرآتاہے،قوانین کی تشکیل میں دونوں کی حیثیت کیاہے، ان کے اعتبار،دائرہ اور اثرمیں کیافرق ہے،انہی باتوں کااس تحریرمیں جائزہ لیاجائے گا۔

عرف کی لغوی اور اصطلاحی تعریف

ماہرین لغت نے عرف کے مختلف معانی بیان کئے ہیں مثلا جان پہچان،شناخت،پسندیدہ فعل، بلند و نمایاں چیز، ہنرمندی۔(۲)

معجم مقاییس اللغۃ میں ہے:

(عَرَفَ) الْعَيْنُ وَالرَّاءُ وَالْفَاءُ أَصْلَانِ صَحِيحَانِ، يَدُلُّ أَحَدُهُمَا عَلَى تَتَابُعِ الشَّيْءِ مُتَّصِلًا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ، وَالْآخَرُ عَلَى السُّكُونِ وَالطُّمَأْنِينَةِ۔(۳)

(عَرَفَ) عین، راء اور فاء،دو صحیح اصول ہیں۔ ان میں سے ایک کسی چیز کے مسلسل اور پے در پے ہونے پر دلالت کرتا ہے، اس طرح کہ اس کے بعض حصے ایک دوسرے سے متصل ہوں، اور دوسرا سکون اور اطمینان پر دلالت کرتا ہے۔

راغب اصفہانی المفردات میں لکھتے ہیں:

المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ: إدراك الشيء بتفكّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار ۔ (۴)

معرفت اور عرفان سے مراد کسی چیز کے آثار و نشانیوں میں غور و فکر اور تدبر کے ذریعے اسے پہچاننا ہے۔ معرفت، علم سے زیادہ خاص ہے اور اس کی ضد انکار ہے۔

لسان العرب میں ہے:

عُرف، عارفہ اور معروف کے معنی ایک ہی ہیں، یعنی نیکی اور بھلائی؛ یہ نُکر(ناپسندیدہ اور اجنبی چیز) کی ضد ہے۔ اس سے مراد ہر وہ بھلائی ہے جسے انسان کا دل پہچانتا ہو، جس سے اسے خوشی حاصل ہو اور جس سے اس کا دل مطمئن ہو جائے۔(۵)

عرف اور معروف دونوں الفاظ قرآن کریم میں متعددمقامات میں آئے ہیں،اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو ارشادفرمایا:

الف:خذ العفووامربالعرف واعرض عن الجاہلین۔(۶)

ب:یابنی اقم الصلاۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکرواصبرعلی مااصابک ان ذلک من عزم الامور۔(۷)

ج:وعاشروہن بالمعروف۔(۸)

‌د:وَعَلَى ‌ٱلمَولُودِ لَهُۥ رِزقُهُنَّ وَكِسوَتُهُنَّ بِٱلمَعرُوفِ۔(۹)

اصطلاحی تعریف

عرف کے اصطلاحی مفہوم میں فقہاء کے درمیان قدرے تنوع پایاجاتاہے،علامہ ابن عابدین اپنے معروف رسالہ ’’نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف ‘‘میں عرف کی تعریف ان الفاظ میں کیاہے:

العرف والعادۃ: مااستقرفی النفوس من جہۃ العقول وتلقتہ الطبائع السلیمۃ بالقبول ۔ (۱۰)

عرف وعادت وہ ہے جو نفوس میں عقلی اعتبارسے راسخ ہوچکی ہو اور نیک طبیعتیں اس کو قبول کرلیں۔

عرف کی یہ تعریف مروف ومروج ہے،شیخ مصطفی احمد زرقاء نےالمدخل الفقہی العام میں اور ڈاکٹروہبہ الزحیلی نے اصول الفقہ الاسلامی میں اسی تعریف کو قبول کیاہے،تاہم اس تعریف میں عرف وعادت دونوں شامل ہے،حالانکہ اصولیین نے عرف اور عادت کے درمیان فرق کیاہے۔

امام جرجانی کی کتاب التعریفات میں عرف کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:

العرف: ما استقرت النفوس عليه بشهادة العقول، وتلقته الطبائع بالقبول۔(۱۱)

عرف سے مراد وہ بات ہے جسے عقلیں درست تسلیم کریں، اور انسانی طبیعتیں اسے قبول کرلیں۔

یہ تعریف گرچہ سابقہ تعریف سے جامع ہے،مگراس میں عرف فاسد کوشامل نہیں کیاگیاہے۔

شیخ ابوزہرہ مصری لکھتے ہیں:

العرف مااعتادہ الناس من معاملات واستقامت علیہ امورہم۔(۱۲)

عرف سے مراد وہ معاملات اور طریقے ہیں جنہیں لوگ معمول بنا لیں اور جن پر ان کے امور و معاملات کا نظام قائم ہو جائے۔

مصری عالم عبدالوہاب خلاف نے عرف کی تعریف اس طرح کی ہے:

کل ماتعارفہ الناس وسارواعلیہ من قول او فعل اوترک۔(۱۳)

عرف سے مراد ہر وہ بات ہے جسے لوگ آپس میں معروف و مانوس سمجھیں اور جس پر وہ قول، فعل یا کسی کام کو چھوڑ دینے کی صورت میں چلتے ہوں۔

عرف کی تمام تعریفات کو سامنے رکھتے ایک جامع تعریف ڈاکٹراحمد بن علی المبارک نے کی ہے:

العرف:مااعتادہ اکثرالناس وسارواعلیہ فی جمیع البلدان اوفی بعضہا سواء اکان ذلک فی جمیع العصوراو فی عصرمعین۔(۱۴)

عرف سے مراد وہ طریقہ ہے جسے اکثر لوگ اپنا معمول بنا لیں اور تمام یا بعض علاقوں میں اس پر عمل کرتے ہوں، خواہ یہ طریقہ ہر زمانے میں رائج ہو یا کسی خاص زمانے میں۔

عادت کی لغوی اور اصطلاحی تعریف

عرف سے قریبی اصطلاح عادت ہے،عادت کالفظ عودسے بناہے،جس کےمعنی لوٹنے کے ہیں،عربی کامحاورہ ہے:رجعت عودی علی بدئی،یعنی جس سے آیااسی طرح لوٹ گیا،لسان العرب میں یہی معنی بیان کیاگیاہے۔(۱۵)

امام راغب اصفہانی عادت کامعنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

والعَادَةُ: ‌اسم ‌لتكرير الفعل والانفعال حتى يصير ذلك سهلا تعاطيه كالطّبع، ولذلك قيل: العَادَةُ طبيعة ثانية (۱۶)

کسی کام کو بار بار کرنے یا اس کے بار بار واقع ہونے کو عادت کہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ کام کرنا اتنا آسان ہو جائے کہ طبیعت کا حصہ بن جائے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ عادت فطرت ثانیہ ہے۔

ابن امیرالحاج لکھتے ہیں:

العادۃ ہی الامرالمتکررمن غیر علاقۃ عقلیۃ۔(۱۷)

عادت وہ کام ہے جوبغیر کسی عقلی مداخلت کے بارباردھرایاجائے۔

عادت کااصطلاحی مفہوم بیان کرتے ہوئے علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں:

العادۃ :عبارۃ عمایستقرفی النفوس من الامورالمتکررۃ المقبولۃ عندالطبائع السلیمۃ۔(۱۸)

عادت سے مراد وہ امور ہیں جوکے عمل سے قبولیت حاصل کرلیتے ہیں،اور سلیم الفطرت لوگوں کے دل میں جگہ پکڑلیتے ہیں۔

علامہ ابن عابدین عادت کی جامع تعریف کی ہے،ان کے الفاظ اس طرح ہیں:

العادۃ ماخوذۃ من العاودۃ فہی بتکررہا ومعاودتہا مرۃ بعداخری صارت معروفۃ مستقرۃ فی النفوس والعقول متعلقاۃ بالقبول من غیر علاقۃ حتی صارت حقیقۃ ۔(۱۹)

عادت معاودہ سے ماخوذ ہے،جوکہ تکراراور باربارکے کئے جانے کی وجہ سے ایک جاناپہچانافعل بن جاتا ہے، نفوس وعقول میں جاگزیں ہوجاتاہے،اور بغیرکسی علاقہ اور قرینہ کے قابل قبول ہوجاتا ہے، یہاں کہ وہ حقیقت عرفیہ بن جاتاہے۔

عرف وعادت کے درمیان فرق

عرف اور عادت دونوں کے مفہوم میں کافی یکسانیت پائی جاتی ہے،فقہاء اور اصولیین کی تحریروںکاخلاصہ یہ ہے کہ عرف وعادت کے درمیان فرق کے حوالے سے تین نقطہ ہائے نظرہیں:

پہلانقطہ نظریہ ہے کہ عرف وعادت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے،علامہ ابن عابدین اور شیخ عبدالوہاب خلاف وغیرہ نے عرف وعادت کی جوتعریف کی ہے،اس سےیہی واضح ہوتاہے۔

فقہاء واصولیین کادوسرانقطہ نظریہ ہے کہ عرف اقوال کے ساتھ مخصوص ہے اور عادت افعال کے ساتھ، عبدالعزیزبخاری کی یہی رائے ہے،وہ لکھتے ہیں:

وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الِاسْتِعْمَالُ رَاجِعًا إلَى الْقَوْلِ۔۔۔۔۔۔وَالْعَادَةُ ‌رَاجِعَةٌ إلَى الْفِعْلِ كَمَا سَنُبَيِّنُهُ۔ (۲۰)

اصولیین کاتیسرانقطہ نظریہ یہ ہے کہ عرف وعادت کے درمیان عموم وخصوص کی نسبت پائی جاتی ہے،عادت عام ہے،اور عرف خاص،یعنی ہرعرف عادت ہے،جبکہ ہرعادت عرف نہیں ہے،شیخ مصطفی احمد زرقاء دونوں کے درمیان فرق کوواضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فتکون النسبۃ بین العادۃ والعرف ہی العموم والخصوص المطلق لان العادۃ اعم مطلقا ابدا والعرف اخص۔(۲۱)

عرف وعادت کے درمیان عموم وخصص مطلق کی نسبت پائی جاتی ہے،کیونکہ عادت ہمیشہ عام ہے،جبکہ عرف خاص ہے۔

عرف کی اقسام

مختلف جہات کے لحاظ سے عرف کی الگ الگ قسمیں کی گئی ہیں۔وضع اور استعمال کے لحاظ سے عرف کی دوقسمیں ہیں: قولی اور عملی۔

عرف قولی کاتعلق الفاظ واصطلاحات کے استعمال سے ہے،بایں طورکہ لغت میں کسی لفظ کامعنی متعین ہومگرعرف میں وہ لفظ کسی دوسرے مفہوم میں مروج ہو،ابن امیرالحاج لکھتے ہیں:

العرف القولی ہوان یتعارف قوم اطلاق لفظ لمعنی بحیثیت لایتبادرسماعہ الا ذلک المعنی ۔ (۲۲)

عرف قولی وہ ہوتاہے جس کے لفظی اطلاق کے معنی سے سب اس طرح واقف ہوں کہ اس کے علاوہ دوسرامعنی مرادنہ لیاجاتاہو۔

علامہ قرافی لکھتے ہیں:

العرف القولی ان تکون عادۃ اہل العرف یستعملون اللفظ فی معنی معین ولم یکن ذلک لغۃ۔(۲۳)

عرف قولی لوگوں کی وہ عادت ہے جس میں وہ لفظ کوکسی متعین معنی میں استعمال کرتے ہیں اور وہ معنی لغوی بھی نہ ہو۔

اس کے برخلاف عرف عملی وہ ہوتاہے وہ کسی علاقے کے لوگوں کاتعامل ہو،شیخ مصطفی احمد زرقاء لکھتے ہیں:

العرف العملی ہو اعتیادالناس علی شئی من الافعال العادیۃ والمعاملات المدنیۃ۔(۲۴)

عرف عملی یہ ہے کہ لوگ روزہ مرہ کے افعال یامعاشرتی معاملات میں کسی خاص طرزیاطریقہ کے عادی ہوجائیں۔

شمولیت کے لحاظ سے عرف کی دوقسمیں ہیں،عرف خاص اور عرف عام۔

عرف عام وہ ہے جس پر تمام علاقوں کے افرادکااتفاق ہو،علامہ ابن عابدین اس عرف کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ہوماتعاملہ عامۃ اہل البلاد سواء کان قدیمااوحدیثا۔(۲۵)

ایساعرف جس پر بلاداسلامیہ کے تمام لوگوں کا عمل ہو،خواہ وہ قدیم ہویاجدید۔

اس کے بالمقابل عرف خاص وہ عرف ہے جو کسی مخصوص علاقہ یاطبقہ میں مروج ہو،علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں:

وَالْعُرْفِيَّةُ الْخَاصَّةُ: كَاصْطِلَاحِ كُلِّ طَائِفَةٍ مَخْصُوصَةٍ، كَالرَّفْعِ لِلنُّحَاةِ، وَالْفَرْقِ وَالْجَمْعِ وَالنَّقْضِ لِلنُّظَّارِ۔(۲۶)

عرف خاص جیسے ہرمخصوص گروہ کی اصطلاح مثلانحویوں کی اصطلاح رفع،اور یاضی دانوں کے لئے جمع وتفریق اور ضرب۔

مشروعیت کے لحاظ سے بھی دوقسمیں ہیں:عرف صحیح اور عرف فاسد

عرف صحیح سے مراد ایساعرف ہے جو شرعی نصوص میں سے کسی نص کے مخالف نہ ہو،اوراس کی وجہ سے کوئی مصلحت فوت نہ ہوتی ہوجس کاشریعت میں اعتبارکیاگیاہے،اور نہ ہی وہ عرف کسی خرابی کے حصول کاذریعہ بنے۔

ڈاکٹرعبدالکریم زیدان لکھتے ہیں:

ہوماتعارفہ الناس ولیست فیہ مخالفۃ لنص شرعی ولاتفویت مصلحۃ ولاجلب مفسدۃ (۲۷)

عرف وہ معاملہ ہے جو لوگوں میں رائج ہوجائے اور اس میں کسی نص شرعی کی مخالف نہ پائی جائے،اور نہ کسی شرعی مصلحت کے ضیاع یافساد کے حصول کاسبب ہو۔

عرف فاسد سے مراد ایساعرف جو نص کے خلاف ہویاضررکے حصول کاذریعہ ہو،یااس سے کوئی شرعی مصلحت فوت ہوتی ہو،ڈاکٹرعبدالکریم زیدان لکھتےہیں:

ہوماتعارفہ الناس ولکنہ یخالف الشرع اویحل المحرم اویبطل الواجب اویجلب ضررا أویدفع مصلحۃ۔(۲۸)

اس سے مراد وہ طریقہ ہے جسے لوگ اپنائے ہوئے ہوں، لیکن وہ شریعت کے خلاف ہو، کسی حرام کام کو حلال قرار دیتا ہو، کسی واجب کو باطل کرتا ہو، یا کسی نقصان کا سبب بنتا ہو یا کسی مصلحت کو ختم کرتا ہو۔

عرف کے مآخذبننے کی بنیادیں

اسلامی قانون کی تشکیل ،تدوین اور تطبیق کے مختلف مراحل میں عرف وعادت کااعتبارایک فطری امرہے،چنانچہ عرف کے حجت ہونے پر تقریباتمام فقہاء کا اتفاق ہے،اجتہاد واستنباط کے لئے عرف کے مصدرہونے پر قرآن، احادیث،اجماع ،آثارصحابہ اور عقل سے استدلال کیاجاتاہے،چنددلائل اس طرح ہیں:

‌خُذِ ‌ٱلعَفوَ وَأمُر بِٱلعُرفِ۔(۲۹)

متعددمفسرین نے اس آیت سے عرف پراستدلال کیاہے،علامہ قرافی اور علامہ طرابلسی نے اس کی صراحت کی ہے۔(۳۰)

مَا رَأَى ‌الْمُسْلِمُونَ ‌حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّ۔(۳۱)

اکثرفقہاء اور اصولیین نے اس حدیث کو عرف کی بنیادقراردیاہے،علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں:

واصلہاقولہ ﷺ ماراہ المسلمون حسنافہوعنداللہ حسن۔(۳۲)

علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:

والعرف انماصارحجۃ بالنص وہوقولہ ﷺ ماراہ المسلمون حسنافہوعنداللہ حسن۔(۳۳)

تمام دبستان فقہ میں عرف کوبنیادی حیثیت دی گئی ہے،گرچہ بعض صورتوں میں ان کے درمیان اختلاف رائے بھی پایاجاتاہے،امام قرافی لکھتے ہیں:

العرف فمشترک بین المذاہب ومن استقرہاوجدہم یصرحون بذلک فیہا۔(۳۴)

امام شاطبی عرف کی شرعی حیثیت اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:

العوائد الجاریۃ ضروریۃ الاعتبار شرعا کانت شرعیۃ فی اصلہا او غیر شرعیۃ اذ لایستقیم اقامۃ التکلیف الابذلک۔ (۳۵)

عوائد جاریہ خواہ ادلہ شرعیہ سے ثابت ہوں یانہ ہوں،بہترصورت ان کااعتبارکرناشرعاواجب ہے، کیونکہ اس کے بغیر نظام تکلیف کاقیام ممکن نہیں ہے۔

عرف کی عملی افادیت اور اس کے استنادی مقام کو واضح کرنے کے لئے متعدد فقہی قواعد وضع کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ شریعت نے عرف کو کس قدر وسعت اور اہمیت دی ہے۔ ان میں سے چند بنیادی قواعد درج ذیل ہیں:

۱۔العادۃ محکمۃ۔ عادت بنائے حکم بن سکتی ہے۔

۲۔ المعروف كالمشروط۔

جو بات عرف میں معروف اور رائج ہو، وہ گویا معاہدے یا لین دین میں شرط کی طرح ہے۔

اس قاعدے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی معاشرے میں کوئی طریقہ کار یا رواج اس طرح پکا ہو چکا ہو کہ فریقین اس کی صریح شرط لگائے بغیر بھی اس کے مطابق عمل کرتے ہوں، تو شرعاً اس عرف کو طے شدہ شرط کا درجہ دیا جائے گا۔

۳۔ الثابت بالعرف کالثابت بالنص۔

عرف سے ثابت شدہ حکم ایسا ہی ہے جیسے کسی نصِ شرعی سے ثابت ہو۔

یہ قاعدہ سے معلوم ہوتاہے کہ جب کوئی حکم سماجی عرف اور تعاملِ عام کی بنیاد پر استوار ہو جائے، تو فقہی احکام کی تطبیق میں اسے ویسی ہی حجیت اور قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے جیسی شارع کی کسی نص سے ثابت ہونے والے حکم کو ہوتی ہے۔

۴۔استعمال الناس حجۃ یجب العمل بہا۔

لوگوں کاعملی رواج واجب العمل ہے،اس پر عمل کیاجائے گا۔

۵۔لاینکرتغیرالاحکام بتغیرالازمان۔

زمانے کے بدل جانے سے احکام کے بدلنے کاانکارنہیں جاسکتا۔

۶۔الحقیقۃ تدرک بدلالۃ العادۃ۔

عادت کی دلالت پر حقیقت کوترک کردیاجائے گا۔

عرف کے معتبرہونے کی شرطیں

اصولیین نے عرف کے معتبرہونے کی متعددشرطیں بیان کی ہیں،چندشرائط اس طرح ہیں:

۱۔عرف کسی نص کے خلاف نہ ہو۔یعنی عرف کے معتبرہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نص قطعی کے مخالف نہ ہو،شریعت کی اصولوں میں سے کسی اصول کوتوڑنے والانہ ہو،اور اس عرف پر عمل کرنے کی بنیاد پر نص قطعی سے ثابت کوئی حکم معطل نہ ہوتاہو،ایساکوئی عرف ہوتواس کااعتبارنہیں ہوگا،شارع نے ایسے عرف وعادات کو حرام قرار دیا ہے جو شرعی اصولوں کے خلاف ہے،مثلا بیع کی اجازت اور سود کی ممانعت :احل اللہ البیع وحرم الربوا (۳۶)

۲۔عرف سلیم الطبع افراد کے نزدیک مقبول ہو۔

وہ عرف عقلمندوں اور سلیم الطبع لوگوں کے نزدیک قابل قبول ہو،عمومی رائے کے موافق ہو،چنانچہ ایساعرف جسے عقل سلیم قبول نہ کرے اس کوقبول نہیں کیاجائے گا۔

۳۔عرف غالب اور مشہورہو،یعنی اکثرمعاملات میں اس کے مطابق عمل ہوتاہو،اوراس کے برعکس کوئی دوسرا عرف معروف نہ ہو،علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں:

اعلم ان کلام العرف العام والخاص انما یعتبراذا کان شائعا بین اہلہ یعرفہ جمیعہم ۔(۳۷)

۴۔قانون سازی یامعاملہ کے وقت عرف قائم ہو، اگر پیش آمدہ واقعات جن پر عرف کی بنیاد پر حکم لگاناہو، عرف کا وجود نہ ہو،یاواقعات کے بعد عرف معروف ہواہو،توایسے واقعات پر عرف کی بنیاد پر حکم نہیں لگایاجائے گا۔

۵۔اہل معاملہ نے عرف کے خلاف کوئی شرط نہ لگائی ہو۔(۳۸)

قانون کی تشکیل میں کسٹم کی حیثیت

وضعی قانون یاجدیدقانون میں رسم ورواج کو کسٹم (custom)کہاجاتاہے،قدیم قوانین میں کسٹم کوہی بنیادی مصدرتسلیم کیاگیاہے،بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ قدیم قانون ابتدائی دورمیں عرف مذہبی روایت اور شاہی احکام پر مشتمل تھا،پھررفتہ رفتہ تحریرقانون اور باقاعدہ قانون سازی عمل میں آئی،گویاتحریری قانون وجودمیں آنے سے پہلے معاشرہ کے مروجہ رسوم وعادات ہی عملی طورپرضابطہ حیات کاکام کرتے تھے۔

تحریری قانون میں بھی کسٹم کی حیثیت مسلم رہی،عموماحمورابی قانون(Code of Hammurabi) کو دنیاکاپہلامحفوظ ترین جامع تحریری قانون سمجھاجاتاہے،اس میں کسٹم کااثرواضح طورپرموجودہے،اسی طرح میگنا کارٹا میں بھی کسٹم اور رواج کو قانونی درجہ دیاگیاہے،میگناکارٹاکے Clause 13 میں لندن کے بارے میں کہاگیاکہ اس شہرکوقدیم آزادیوں اور آزادعرف ورسوم کے ساتھ باقی رکھاگیاہے:

All its ancient liberties and fee customs

اسی طرح اس کے clause 41میں تاجروں کو انگلستان آنے ،جانے اور تجارت کی آزادی سے متعلق کہاگیاکہ اس مسئلہ میں انگلستان کے قدیم اور قانونی عرف کو تسلیم کیاجائے گا:

according to ancient and law ful customs

جدیدقانون میں کسٹم کی تعریف

کسٹم کی لغوی تعریف اس طرح کی گئی ہے:

A practic that by its common adoption and long unvarying habit has com to have the force of law.(39)

ایک ایساعمل جواپنی عمومی قبولیت اور لمبے عرصہ تک غیر متبدل عادت کے طور پر اپنائے جانے کی وجہ سے ایک قانونی قوت حاصل کرچکاہو۔

سر جان سالمنڈ (John Salmond) نے عرف کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:

Custom is the embodiment of those principles which have commended themselves to the national conscience as principles of justice and public utility.(40)

عرف ان اصولوں کا عملی اظہار ہے جنہیں قومی ضمیر نے انصاف اور عوامی افادیت کے اصولوں کے طور پر قبول کرلیا ہو۔

جارج ڈبلیو۔ کیٹن (George W. Keeton) کے مطابق عرفی قانون کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے:

Customary law may be defined as those rules of human action established by usage and regarded as legally binding by those to whom the rules are applicable, which are adopted by the courts and applied as source of law…(41)

عرفی قانون سے مراد انسانی طرزِ عمل کے وہ قواعد ہیں جو رواج کے ذریعے قائم ہوئے ہوں، متعلقہ افراد انہیں قانونی طور پر لازم سمجھتے ہوں اور عدالتیں انہیں قانون کے ماخذ کے طور پر قبول کرکے نافذ کرتی ہوں۔

ان تعریفات کاخلاصہ یہ ہے کہ وضعی قوانین میں کسٹم سے مراد وہ غیرتحریری سماجی ضوابط،روایتیں اور معمولات ہیں جوکسی معاشرہ میں طویل عرصہ سے مسلسل رائج ہوں اور انہیں قانونی حیثیت حاصل ہوچکی ہو۔

وضعی قانون میں عادت کامفہوم

جدیدقانون میں عادت کے لئے عموما (Usage)کالفظ استعمال کرتے ہیں،وضعی قوانین میں رسم ورواج کے حوالے سے جوبحثیںملتی ہیں جو کسٹم کے حوالے سے ملتی ہیں،اس وجہ سے ماہرین کے نزدیک عادت کی الگ کوئی حیثیت نہیں ہے،جب عادت اجتماعی ہواورعرف کے درجہ تک پہونچ جائے تواسے کسٹم کادرجہ مل جاتاہے۔

عادت(Usage)کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:

A usage is merely a costomary or habitual practice ,usage denotes somthing that people are accustomed to do .(42)

usageمحض ایک رواجی عادت ہے جوکسی ایسی چیزکوظاہرکرتی ہے جسے لوگ عادتا یارواجا کرتے ہیں۔

انٹرنیشنل لامیں دونوں کے درمیان فرق اس طرح بیان کیاگیاہے:

A custom in the intendment of law is such a usage as hath obtained the force of law .(43)

عرف قانون کی زبان میں وہ عادت ہے جس نے قانونی قوت حاصل کرلی ہو۔

کسٹم کی اقسام

جدیدقانونی نظام کو کسٹم کو دوحصوں میں بانٹاگیاہے:قانونی عرف (Legal Custom)،اور روایتی عرف(Conventional Custom)

ایسارسم ورواج جوکسی معاشرہ میں طویل عرصہ سے جاری ہو،لوگ اسے ضروری سمجھتےہوں اورتسلیم کرتے ہوں،نیزاسے قانونی حیثیت حاصل ہوچکی ہے،اسے قانونی عرف کہاجاتاہے،ڈاکٹروی جی مہاجن قانونی عرف کی تعریف کرتے ہوئے لکھتےہیں:

The legal Custom is one whose legal authority is absulute ,if prossesses force of law proprio vigore.(44)

قانونی عرف وہ ہے جس کااختیاریاحکم قطعی ہوتاہے،اور جوبذات خود قانون کی قوت رکھتاہے۔

روایتی عرف سے مراد وہ روسم و رواج ہے جس کی پابندی متعلقہ فریقوں کے لیے ان کے معاہدے میں قبول کیے جانے اور شامل کیے جانے پر منحصر ہو،اس کومعاہداتی عرف بھی کہاجاسکتاہے۔

سالمنڈنے روایتی عرف یارسم ورواج کے بارے میں جوکچھ لکھاہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ ایسارسم ورواج جو عادت کے طورپرمعتبرہوچکاہومگراس لئے نہیں کہ اس کی جداگانہ قانونی قوت نافذ ہے بلکہ اس لئے کہ ظاہرایاباطنامعاہدہ کے فریقین نے اسےمعاہدہ میں شام کیاہے۔

پھرقانونی عرف کی دوقسمیں کی جاتی ہیں:عام رسم ورواج(Genral Custom)،خاص رسم ورواج (Local Custom)

کسٹم کے قانونی مآخذ بنے کی شرائط

جدیدقانون میں کسی رسم ورواج کو قبول کئے جانے کے لئے چندشرطیں لگائی گئیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔رسم ورواج انصاف کے اصولوں اور پبلک پالیسی کے خلاف نہ ہو۔

۲۔کسی بنے ہوئے قانون کے مخالف نہ ہو۔(Conformity with Law)

۳۔طویل عرصہ سے سماج میں رائج ہو۔(Antiquity)

۴۔اس سماجی رسم ورواج پر عمل رضاکارانہ ہو۔(Morality)

۵۔وہ رسم ورواج معقول ہو۔(Reasonableness)

۶۔وہ رسم ورواج تسلسل کے ساتھ جاری ہو۔(Consistency)

۷۔اس رواج پرعمل میں جبرنہ ہواور نہ تنازع ہو۔(Peaceable Enjoyment)

۸۔وہ رواج واضح،متعین اور غیرمبہم ہو۔(Certainty) (۴۵)

آئین کے مقابلے میں کسٹم (عرف و رواج) کی قانونی حیثیت

جدید قانونی نظام میں آئین قانون کا اعلیٰ ترین ماخذ ہے، اس لیے عرف و رواج کی قانونی حیثیت آئینی اصولوں اور بنیادی حقوق سے مشروط ہے۔ کوئی عرف محض قدیم یا معاشرتی طور پر مقبول ہونے کی بنا پر قابلِ نفاذ نہیں، بلکہ اس کا مساوات، آزادی، انسانی وقار اور نافذالعمل قوانین سے مطابقت رکھنا ضروری ہے۔ لہٰذا عرف و رواج کو آئین کے تابع ایک مشروط قانونی ماخذ تسلیم کیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلوں میں کسٹم کی حیثیت

عدالتیں قانون کی تشریح، قانونی خلا کی تکمیل اور حقوق و فرائض کے تعین میں عرف و رواج کو اہمیت دیتی ہیں۔ تاہم، کسی عرف کو تسلیم کرنے کے لیے اس کا قدیم، مسلسل، واضح، معقول اور مسلمہ ہونا ضروری ہے، نیز وہ نافذالعمل قانون اور آئینی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔ اس طرح عدالتی فیصلے عرف کی قانونی صحت اور اس کے دائرۂ اطلاق کا تعین کرتے ہیں۔

آئین ہندمیں رسم و رواج کی اہمیت

آئین ہندمیں رسم و رواج (Customs) کو مذہبی آزادی، ثقافتی شناخت اور قبائلی روایات کے تحفظ میں اہمیت حاصل ہے، تاہم ان کی قانونی حیثیت آئینی اصولوں اور بنیادی حقوق سے مشروط ہے۔

1۔ آرٹیکل 13: قانون کی قوت رکھنے والے ایسے رسوم و رواج بنیادی حقوق سے متصادم ہونے پر آئینی جانچ کے تابع ہیں۔

2۔ آرٹیکلز 25,26: مذہبی آزادی اور مذہبی فرقوں کو اپنے مذہبی امور کے انتظام کا حق دیتے ہیں، جو آئینی پابندیوں کے تابع ہے۔

3۔ آرٹیکل 29: جداگانہ زبان، رسم الخط اور ثقافت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

4۔ آرٹیکل 44: ریاست کو یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) کے نفاذ کی کوشش کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔

5۔ پانچویں اور چھٹی شیڈولز: قبائلی علاقوں، روایتی اداروں اور بعض عرفی نظاموں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات فراہم کرتے ہیں۔

6۔ عدالتی اعتراف: عدالتیں ایسے عرف و رواج کو تسلیم کر سکتی ہیں جو قدیم، مسلسل، واضح، معقول اور قانون و آئین سے ہم آہنگ ہوں۔

خلاصہ یہ کہ آئین ہندرسم و رواج کے تحفظ کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ان کی قانونی حیثیت آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق اور نافذالعمل قوانین کی پابندی سے مشروط ہے۔

اسلامی قانون میں عرف اور جدید قانون میں کسٹم کا تقابلی مطالعہ

اسلامی قانون میں عرف و عادت اور جدید قانونی نظام میں کسٹم کی حیثیت کا تقابلی جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں نظاموں میں معاشرتی تعامل اور مستحکم روایات کو قانون کی تشکیل وتدوین میں اہمیت حاصل ہے، تاہم ان کی قانونی بنیاد اور حدود میں فرق پایا جاتا ہے۔ اسلامی قانون میں عرف کوتشریع کاثانوی مصدرماناگیاہے، جب کہ جدید قانونی نظام میں کسٹم بعض شرائط کے تحت مستقل ماخذِ قانون اور بعض صورتوں میں قانونی قواعد کی تشریح کا ذریعہ بنتا ہے ۔ اس اعتبار سے دونوں نظام عرف کو معاشرتی زندگی اور قانون کے درمیان ایک مؤثر واسطہ تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کی قانونی حیثیت کے تعین کے اصول مختلف ہیں۔

اول: ماخذِ قانون اور حجیت کی بنیاد:

اسلامی قانون میں عرف کی حجیت قرآن و سنت کے عمومی اصولوں،اور معتبر شرعی قواعد سے مربوط ہے۔ فقہائے اسلام نے عرف کو اس وقت معتبرقراردیاہے جب وہ کسی قطعی شرعی نص کے خلاف نہ ہو،اس کی وجہ سے کوئی شرعی مصلحت فوت نہیں ہوتی ہو۔ اس کے برخلاف جدید قانون میں کسٹم کوبنیادمآخذکادرجہ حاصل ہے،اوراس کی قانونی قوت کا انحصار متعلقہ نظامِ قانون کے تسلیم شدہ اصولوں اور شرائط پر ہوتا ہے،رسم ورواج کی قبولیت کے لئے اس رواج کاتسلسل کے ساتھ جاری رہناضروری ہے۔

دوم: عرف کے قبول و رد کے اصول:

اسلامی فقہ میں عرف کے معتبر ہونے کے لیے اس کاصالح ہونا ضروری ہے، عرفِ فاسد، جو شرعی احکام سے متصادم ہو یا کسی معتبر شرعی مصلحت کو فوت کرے، حجت نہیں بن سکتا۔ جدید قانونی نظام میں کسٹم کے قانونی اعتبار کے لیے عموماً اس کا قدیم، مسلسل، واضح، معقول اور قانونی اصولوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے،یہاں صالح اور غیرصالح کاتصورنہیں ہے۔

سوم: عرف اور تحریری قانون کا باہمی تعلق: اسلامی قانون میں عرف کسی قطعی شرعی حکم کو منسوخ نہیں کر سکتا، جن معاملات میں شرعی اصولوں کی بنیاد پر عرف کااعتبارکیاگیاہے وہیں عرف معتبرہوگا، جدید قانونی نظام میں بھی کسٹم کی حیثیت دستور، تحریری قانون اور متعلقہ قانونی قواعد کے تابع ہوتی ہے؛ چنانچہ کسی لازمی قانونی حکم سے متصادم عرف کو محض قدامت یا معاشرتی قبولیت کی بنیاد پر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔

چہارم: عرف کے تغیر اور قانونی اطلاق میں فرق:

اسلامی فقہ میں عرف کی تبدیلی کے نتیجے میں ان احکام کے اطلاق میں تبدیلی ممکن ہے جن کی بنیاد عرف و عادت پر ہو، نہ کہ کسی قطعی شرعی نص پر۔ اس اصول کی اہمیت اس لیے ہے کہ معاشرتی حالات کے تغیر کے ساتھ معاملات کی صورتیں اور ان کے عرفی مفاہیم بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جدید قانونی نظام میں بھی عرفی تبدیلی قانونی تعبیر اور بعض اوقات قانون سازی پر اثرانداز ہوتی ہے، لیکن اس تبدیلی کے قانونی نتائج متعلقہ قوانین اور عدالتی نظائر کے تابع ہوتے ہیں۔

خلاصہ

چندباتوں میں دونوں قوانین یکساں ہیں:

۱۔اسلامی قانون اور وضعی قوانین دونوں میںعرف اور رسم ورواج کو اہمیت دی گئی ہے۔

۲۔اسلامی قانون میں عرف نص کے خلاف معتبرنہیں ہے،اسی طرح رسم ورواج کسی مقننہ کے قانون کے خلاف معتبر نہیں ہے۔

۳۔اسلامی قانون اور وضعی قانون دونوں جگہ عرف کے قبول کئے جانے کی کچھ شرطیں متعین ہیں۔

۴۔اسلامی قانون میں مفتی اور فقیہ کے لئے اسی طرح وضعی قانون میں ماہرین قانون کے لئے عرف وعادت سے واقف ہونالازمی ہے۔

درج ذیل نکات میں دونوں کے درمیان فرق پایاجاتاہے:

۱۔اسلامی قانون میں عرف کااعتبارشارع کی مرضی کے مطابق ہوتاہے،جبکہ وضعی قانون میں عرف کا اعتبار انسانوں کی مرضی کے مطابق ہے۔

۲۔وضعی قوانین میں رسم ورواج اور عرف قانون کے مصادراصلیہ میں شامل ہیں،جبکہ اسلامی قانون میں عرف کو ثانوی مصدرتشریع ماناگیاہے۔

۳۔اسلامی قانون میں وہی عرف معتبرہے جو صحیح ہواور شریعت کے عمومی مقاصد ومصالح کے مطابق ہو،اسی لئے عرف فاسد کااعتبارنہیں،اس کے برعکس وضعی میں لوگوں کے تعامل کااعتبارہوتاہے،اس لئے وہاں صحیح اور فاسد کی تقسیم نہیں ہے۔(۴۶)

حواشی:

۱۔The Laws of Hammurabi: At the Confluence of Royal and Scribal Traditions ,Pamela Barmash ,Oxford University Press، 2020

۲۔تفصیل کے لئے دیکھئے:اسلامی قانون اور وضعی قانون میں عرف وعادت بطور مآخذ قانون،ص:۳،پی ایچ ڈی کامقالہ، از حافظ عبدالغنی،شعبہ علوم اسلامیہ،پنجاب لاہور،۲۰۱۰

۳۔ابن فارس،احمد بن فارس بن زکریاقزوینی،مقاییس اللغۃ،ج۴،ص:۲۸۱،دارالفکر۱۹۷۹؁

۴۔اصفہانی،ابوالقاسم حسین بن محمدمعروف بہ راغب اصفہانی،المفردات فی غریب القرآن،ص:۵۶۰،دارالقلم ،دمشق، بیروت، ۱۴۱۲ھ؁

۵۔ابن منظور،محمد بن مکرم بن علی ،ابن منظور الانصاری،لسان العرب، ج۹، ص:۲۳۹، دارصادر بیروت، ۱۴۱۴ھ؁

۶۔اعراف:۱۹۹

۷۔اعراف:۱۷

۸۔نساء:۱۹

۹۔بقرہ:۲۳۳

۱۰۔ابن عابدین،محمد امین معروف بہ ابن عابدین،نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف ،ج۲، ص:۱۱۴،

۱۱۔جرجانی،علی بن محمد بن علی الزین الشریف الجرجانی،کتاب التعریفات،ص:۱۴۹،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۹۸۳ئ؁

۱۲۔ابوزہرہ،اصول الفقہ،ص:۲۷۳

۱۳۔خلاف،عبدالوہاب خلاف،علم اصول الفقہ ،ص:۸۹

۱۴۔دکتوراحمد بن علی المبارک،العرف واثرہ فی الشریعۃ والقانون،۳۸

۱۵۔لسان العرب،ج۹،ص:۴۳۵

۱۶۔المفردات لالفاظ القرآن،ص:۵۹۴

۱۷۔ابن امیرحاج،ابوعبداللہ سمش الدین محمد بن محمد بن محمد المعروف بابن امیر حاج، التقریر والتحبیر،ج۱،ص:۲۸۲

۱۸۔ابن نجیم،زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف بابن نجیم،الاشباہ والنظائر،ص:۹۴

۱۹۔ابن عابدین،مجموعہ رسائل ابن عابدین،ج۱،ص:۱۱۴

۲۰۔بخاری،علاء الدین عبدالعزیزبن احمد البخاری،کشف الاسرارعن اصول فخرالاسلام البزدوی، ج۲، ص:۹۵،شرکۃ الصحافہ العثمانیۃ اسطنبول،۱۹۸۰ء؁

۲۱۔زرقاء،مصطفی احمد الزرقاء،المدخل الفقہی العام،ج۲،ص:۸۸۳

۲۲۔التقریر والتحبیر، ج۱، ص:۲۸۲

۲۳۔قرافی،ابوالعباس شہاب الدین احمد بن ادریس الشہیربالقرافی،الفروق للقرافی، ج۱، ص:۱۷۱،عالم الکتب

۲۴۔المدخل الفقہی العام،ج۲،ص:۲۵۲

۲۵۔مجموعۃ رسائل ابن عابدین،ج۲،ص:۱۶۶

۲۶۔الاشباہ والنظائر،ص:۷۹

۲۷۔زیدان،عبدالکریم الزیدان،الوجیزفی اصول الفقہ،ص:۲۵۳

۲۸۔الوجیزفی اصول الفقہ،ج۲،ص:۲۵۳

۲۹۔اعراف:۱۹۹

۳۰۔دیکھئے:کتاب الفروق، ج۳، ص:۱۴۹،معین الحکام،ص:۱۶۰

۳۱۔حاکم ،ابوعبداللہ محمد بن عبدللہ الحاکم ،المستدرک علی الصحیحین، حدیث نمبر:۴۴۶۵

۳۲۔الاشباہ والنظائر،۹۳

۳۳۔ابن ہمام،کمال الدین محمد بن عبدالواحد السیواسی،شرح فتح القدیر،ج۱،ص:۲۱۴

۳۴۔قرافی،ابوالعباس شہاب الدین احمد بن ادریس بن عبدالرحمن المالکی الشہیر بالقرافی،شرح تنقیح الفصول،ص:۴۴۸

۳۵۔شاطبی،ابواسحق ابراہیم بن موسی بن محمد اللخمی الشاطبی،الموافقات، ج۲،ص:۲۸۰

۳۶۔بقرہ:۲۷۵

۳۷۔نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف، ص:۱۲

۳۸۔تفصیل کے لئے دیکھئے:اسلامی قانون اور وضعی قانون میں عرف وعادت بطور مآخذ قانون،ص:۵۶،پی ایچ ڈی کامقالہ،شعبہ علوم اسلامیہ،پنجاب لاہور،۲۰۱۰

۳۹۔Bloak's Law Dictionary Thomsom West P:413

۴۰۔John W. Salmond, Jurisprudence

۴۱۔George W. Keeton, The Elementary Principles of Jurisprudence London 1930, p. 48

۴۲۔Garner P 413

۴۳۔International Law ,p:109

۴۴۔jurisprudence and legal theory ,p 213

۴۵۔تفصیل کے لئے دیکھئے مقالہ:Custom as a cource of law,

۴۶۔تفصیل کے لئے دیکھئے:اسلامی قانون اور وضعی قانون میں عرف وعادت بطور مآخذ قانون،ص:۲۲۱،پی ایچ ڈی کا مقالہ، شعبہ علوم اسلامیہ،پنجاب لاہور،۲۰۱۰؁

مولانا منور سلطان ندوی · صفحہ ۹۶

تحقیقات شرعیہ، شمارہ ۸ · جولائی تا ستمبر ۲۰۲۶

پی ڈی ایف پڑھیں (PDF)

شمارہ ۸ کی فہرست مضامین