اداریہ
الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على خاتم الانبياء والمرسلين وعلى اله وصحبه الى يوم الدين اما بعد !
سہ ماہی تحقیقات شرعیہ لکھنو کا آٹھواں شمارہ پیش خدمت ہے اس شمارہ میں بھی الحمدللہ اہم مضامین شامل اشاعت ہیں، اداریہ کے بعد پہلا مضمون مولانا ڈاکٹر محمد مصطفی عبدالقدوس ندوی کا ہے، جو گجرات کے ایک اہم ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کا موضوع’’روایت فی المعنی اور فقہی احکام میں اس کے اثرات‘‘ ہے،تحقیقات شرعیہ لکھنو میں شائع ہونے والا ان کا یہ پہلا مضمون ہے، ہم تحقیقات شرعیہ کی بزم میں ان کا استقبال کرتے ہیں، اور امید کرتے ہیں اس میگزین سے ان کا ارتباط قائم رہے گا اور ہمیں ان کے پر مغز اور تحقیقی مضامین کی اشاعت کا بار بار موقع ملے گا، موضوع کافی اہم ہے جس کا تعلق حدیث اور فقہ دونوں سے ہے، امید ہے کہ اہل علم قارئین کو یہ مضمون پسند آئے گا، اس موضوع پر اگر کوئی صاحب ذوق محقق علمی استدراک یا اضافہ کر سکیں تو اس کا استقبال کیا جائے گا۔
اس شمارے میں شامل دوسرا مضمون اس حقیر کا ہے جس کا عنوان ہے ’’امام الحرمین عبدالملک ابن عبداللہ جوینی اور ان کی کتاب البرہان فی اصول الفقہ‘‘ اس موضوع میں تاریخ اسلامی کی ایک اہم شخصیت امام الحرمین عبدالملک جوینی جو امام غزالی کے سب سے اہم استاد ہیں،ان کی شخصیت اور خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے اور علم اصول الفقہ میں ان کی اہم ترین کتاب البرہان کا تعارف کرایا گیا ہے اور اس کی خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے، امام الحرمین پر جو تنقیدیں کی گئی ہیں ان کا بھی اختصار اور اعتدال کے ساتھ ذکر ہے، امید ہے کہ تحقیقات شرعیہ کے قارئین کو پسند آئے گا۔
تیسرا مضمون جناب مولانا ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی پروفیسر مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد کا ہے جو تحقیقات شرعیہ کی بزم میں شروع سے شریک ہیں، اور ان کے متعدد مضامین اس میگزین میں شائع ہو چکے ہیں اور قارئین نے انہیں پسند کیا ہے، اس شمارے میں شریک ان کے مضمون کا عنوان ’’ہندوستان میں مسلمانوں کے عہد کا عدالتی نظام :فتح سندھ سے دہلی سلطنت تک‘‘ہے ،یہ مضمون فقہ اور تاریخ دونوں سے مربوط ہے، اور بڑی کامیابی کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے دور کے نظام میں عدل کی تصویر کشی کرتا ہے، انشاء اللہ اس موضوع کی تکمیل آئندہ شمارے میں ہوگی جس میں عہد مغلیہ کے عدالتی نظام کو موضوع تحقیق بنایا گیا ہے۔
اس شمارے کا چوتھا مضمون دار العلوم ندوۃ العلماء کے استاد مولانا عبدالمتین ندوی کے قلم سے ہے،جس کا عنوان ہے ’’محمد بن اسحاق اور فن مغازی‘‘،فن مغازی وسیر میں محمد ابن اسحاق کی شخصیت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ مولانا عبدالمتین ندوی صاحب نے اس موضوع کو اختصار کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔انشاء اللہ اس مضمون میں آپ کو سابقہ تحقیقات کا عکس نظر آئے گا، اور اختصار کے ساتھ موضوع کے اہم پہلو روشن ہوں گے، تحقیقات شرعیہ کی بزم میں یہ مقالہ نگار کی پہلی شرکت ہے،امید ہے کہ مجلس تحقیقات شرعیہ اور مجلہ تحقیقات شرعیہ کے ساتھ ان کا علمی تعاون برابر جاری رہے گا۔
اس کے بعد کا مقالہ جناب مولانا مفتی ظفر عالم ندوی استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قلم سے ہے جو مجلس تحقیقات شرعیہ کے رفیق اور اس کے علمی کاموں میں پابندی کے ساتھ شریک رہتے ہیں،ان کے مقالے کا موضوع ہے ’’طب اور اس سے متعلق بعض جدید فقہی مسائل‘‘ یہ مقالہ اہم ہے اور بعض جدید طبی مسائل کے حوالے سے ان کی تحقیقات و آرا ءکی ترجمانی کرتا ہے،امید ہےکہ جدید فقہی مسائل کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والے اس کا مطالعہ کریں گے۔
ساتویں مضمون کا عنوان ہے’’ مختلف میدانوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال فقہی نقطہ نظر‘‘،یہ مضمون المعہد العالی حیدرآباد کے استاد مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی حفظہ اللہ کے قلم سے ہے، مصنوعی ذہانت کا موضوع اس وقت دنیا میں چھایا ہوا ہے اور مختلف زاویوں سے اور مختلف میدانوں میں اس کے استعمال پر بکثرت بحثیں ہو رہی ہیں، فقہ و شریعت کے نقطہ نظر سے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی بحث و تحقیق جاری ہے اور مختلف آراء سامنے آرہی ہیں، مولانا اعظم ندوی صاحب نے اس موضوع پر داد تحقیق دی ہے،ماشاءاللہ وہ اردو اور عربی دونوں زبانوں میں بہت اچھا لکھتے ہیں، امید ہے کہ ان کا یہ مضمون پسند کیا جائے گا اور مصنوعی ذہانت کے تعلق سے شرعی نقطہ نظر کو طے کرنے میں معاون بنے گا۔
اس شمارہ کاآخری مضمون تحقیقات شرعیہ کے نائب مدیرمولانامنورسلطان ندوی کے قلم سے ہے،جس کا عنوان ہے ’’قانون کی تشکیل میں عرف ورواج کی قانونی حیثیت‘‘فقہ اسلامی میں احکام شریعت کے بارے میں عرف ورواج کاکیامقام ہے،اور عرف ورواج احکام شریعت میں کس قدراثراندازہوتے ہیں،یہ موضوع پر بڑی حد تک علماء اور اصحاب افتاء کے لئے واضح ہے،اس موضوع پر بہت سی کتابیں اور مقالات ہیں،لیکن عصری قوانین میں قانون سازی کے حوالے سے عرف ورواج (کسٹم)کس حد تک اثراندازہے،اور اس کاکیاقانونی مقام ہے،اس کوخاص طور پر علماء اور اصحاب افتاء کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے،اس مضمون میں اس پہلوپرروشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے،امیدہے کہ یہ مضمون پسند کیاجائے گااور عصری قانون اور اسلامی شریعت دونوں کے مطالعہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے مفیدہوگا۔
اللہ تعالی سہ ماہی مجلہ تحقیقات شرعیہ کوقبولیت سے نوازے،اور اس کے مقالات ومضامین کو دوردورتک پہونچائے۔
عتیق احمد بستوی
تحقیقات شرعیہسہ ماہی علمی و تحقیقی مجلہ