روایت بالمعنی اور فقہی احکام میں اس کے اثرات
ڈاکٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندوی
(استاذ حدیث: جامعۃ العلوم گڑھا گجرات)
فن حدیث میں روایت بالمعنی کو بڑی اہمیت حاصل ہے ،عہد رسالت ،عہد صحابہ اور عہد تابعین میں اسکارواج بہت رہا ہے ، گو علمی اعتبار سے روایت بالمعنی بڑا نازک معاملہ ہے اور بڑی ذمہ داری کاکا م ہے ،اسی وجہ سے جن لوگوں نے اس کوو جائز قرار دیا ہے انہوں نے بڑی اہم شرطوں اور قیودکے ساتھ اجازت دی ہے ، وہ بھی اس کارواج زیادہ ترعہد رسالت ، صحابہ اور تابعین میں رہا ہے ، حدیثیں جب سینوں سے سفینوں میں آگئیں اور کتابوں میں مدون ومحفوظ ہوگئیں تو اس کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی ؛ تاہم جب روایت بالمعنی کا رواج تھا تو اس نے فقہ اسلامی پر بڑا اثر ڈالا، جس کے نتیجہ میں فقہاء کرام کے درمیان فہم نصوص اورفقہی احکام سے استبناط واستخراج میں اختلاف ہوا، جو ایک فطر ی بات ہے، پھر نئے پیش آمدہ مسائل کے شرعی حل تلاش کرنے میں بھی اختلاف واقع ہونا ناگزیر ہوگیا؛اسی پس منظر میں ”روایت بالمعنی اور فقہی احکام میں اس کے اثرات “کوموضوع بنایا گیاہے ۔
روایت بالمعنی کی تعریف
عربی زبان کے اعتبار سے روایت کا لفظ” الروايۃ “ہے،جو مصدر ہے، جس کے معنی روایت کرنا، نقل کرنا ، بولتے ہیں:” روی الحديث “ ، یعنی اس نے بات دوسرے تک پہونچائی۔
اصطلاح کے اعتبار سے ا سکی دوقسمیں بنتی ہیں، ایک روایت باللفظ دوسری روایت بالمعنی۔
روایت باللفظ: اس کوکہتے ہیں جس میں راوی حدیث کو جس طرح سنا ہے ٹھیک اسی طرح روایت کرے،اپنی طرف سے اس میں کسی لفظ یا جملہ کو مقدم و مؤخر نہ کرے، نہ ہی اس میںکسی طرح کی کمی وبیشی ،یا تبدیلی ،یہاں تک کہ كکسی مخفف حرف کو مشدد اور اس کے برعکس نہ کرے ۔
روایت بالمعنی:اس کوکہتے ہیں جس میں راوی پوری حدیث کے معنی ومفہوم اور اسکی مرادیااسکے بعض حصے كکےمعنی ومرادکو اپنے الفاظ وتعبیرات کے سانچے میں بیان کرے، اس طور پر کہ اس میں اپنی طرف سے کسی معنی ومفہوم كکاحذف واضافہ نہ کرے اور نہ ہی اس میں کسی طرح کی تبدیلی وتحریف کرے۔(۱)۔
روایت بالمعنی کا حکم
روایت کی پہلی قسم ، یعنی روایت باللفظ کے جواز میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ، قبولیت کی شرطیں پائے جانے کی صورت میں بالاتفاق مقبول ہے (۲)؛ بلکہ حقیقت میں روایت باللفظ ہر حالت میں افضل وبہتر ہے (۳) اور بعض صورتوں میں واجب ولازم ہے جیسا کہ عنقریب اس کی تفصیل آگے آئےگی ، جہاں تک روایت بالمعنی کے حکم کی بات ہے تو اس کے بارے میں علماءکا اختلاف ہے، اس سلسلہ میں دو قول زیادہ مشہور ہیں ، اور وہ یہ ہیں:
پہلا قول :بغیرکسی تفصیل کے مطلق ممنوع ہے ، یہی امام مالک ؒ اور ظاہریہ کا مذہب ہے ، بہت سے محدثین اور بعض اصولیین نے اسی کو اختیارکیا ہے ، یہی رائے مشہور تابعی امام محمد ابن سیرینؒ کی بھی ہے (۴)۔
دوسرا قول:کچھ شرطوںکےساتھ جائز ہے ، یہ جمہور علماءسلف وخلف، فقہاء ، اصولیین ،محدثین اور ائمہ اربعہ کا قول ہے(۵)۔
جمہور علماءکا استدلال ایک حدیث مرفوع سےہے، جس کے راوی حضرت محمد بن عبد اللہ بن سلیمان بن اکیمہ ہیں،جو اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نےکہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپﷺ سے حدیث سنتا ہوں ؛ میں اس طرح اس کو ادکرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں جس طرح سے آپﷺ سے سنتا ہوں، کبھی ایک حرف بڑھ جاتا ہے یا گھٹ جاتا ہے ؟، آپ ﷺنے ارشاد فر مایا: ” جب تم لوگ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہ ٹھہراؤ ، اور درانحالیکہ مراد ومفہوم کو پالو یعنی اداکردو ، توکوئی حرج نہیں ہے“۔ اس کا تذکرہ جب حضرت حسن بصری ؒ سے کیا گیا تو انہوں نے فر مایا: اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو ہم لوگ حدیث بیان نہیں کرتے ( ۶)۔
امام شافعی ؒ نے اس کے جواز پر ایک دوسری حدیث سے استدلا ل کیا ، اور وہ یہ ہے :
اُنْزِلَ الْقُرْآنُ، عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَأُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ۔
فر ما یا: سات قراءت کے مطابق قرآن پڑھنا جائز ہے گو الفاظ مختلف ہوں بشرطیکہ معنی کا اختلاف نہ ہو ، توکتاب اللہ کے علاوہ جو بھی ہو یعنی گو وہ حدیث ہی کیوں نہ ہو، معنی کے اختلاف نہ ہو نے کی شرط کے ساتھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ روایت کرنا بدرجہ اولی جائز ہوگا(۷)۔
اور چونکہ اکثر حضرات صحابہ کرام ؓسے ثابت ہے کہ انہوں نے ایک ہی واقعہ کو مقصود ومعنی کے اتحادکے ساتھ مختلف الفاظ وتعبرات میں روایتیںکی ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی صحابی جب وہ ایک ہی واقعہ کو مختلف موقعوں پر بیان كکرتے ہیں تو الفاظ بدل گئے ہیں،یہ ایک فطری بات ہے۔(۸ )۔
سب سے بڑی دلیل یہ ہےکہ اس بات پر اجماع ہےکہ عجمیوںکے لئے ان کی زبان میں شریعت مطہرہ کی توضیح وتشریح جائز ہے تو عربی زبان ہی میں اسکی ترجمانی بدرجہ جائز ہوگی(۹)۔ اور چونکہ حدیث پاک کی روایت میں اصل مقصود معنی ہے نہ کہ لفظ(۱۰) ، اور یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں ہےکہ روایت بالمعنی کی ممانعت کی صورت میں بڑا حرج لازم آئےگا(۱۱)۔
روایت بالمعنی کے جواز کی شرطیں
جن حضرات علماءکرام نے روایت بالمعنی کو جائز قرار دیا ہے ، انہوں نے مطلق جائز قرار نہیں دیا ؛ بلکہ چند شرطوں كکے ساتھ جائز قرار دیا ہے ، اور وہ شرطیں یہ ہیں:
۱: راوی جب روایت بالمعنی کا ارادہ کرے توایسے الفاظ وتعبیرات کا انتخاب کرنے کی پوری کوشش کرےجو معنوی اعتبار سے حدیث کے الفاظ کے موافق وہم آہنگ ہوں۔(۱۲ )۔
۲: راوی الفاظ وتعبیرات ، باہم ان کے درمیان باریک فُروق ، ان کے مدلولات ومقاصد سے خوب آگاہ ہو اور ان الفاظ کے معنوں ومرادوں سے اچھی طرح باخبر ہو( ۱۳)۔
۳: جن معانی کو الفاظ کا جامہ پہنا رہا ہے ان سے خوب واقف ہو ، حدیث کے مثبت ومنفی مفہوم،یعنی مفہوم موافق ومخالف کو سمجھنے کی اس میں صلاحیت ہو ، اس کو اپنے تئیں اس بات پر یقین واطمینان ہوکہ جو حدیث اس تک پہنچی ہے اس کا مفہوم کما حقہ اداکردیا ہے (۱۴)۔
۴: روایت بالمعنی کے جوازکی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ راوی حدیث نبوی کے اصل الفاظ بھول گئے ہوں ، حالانکہ اس نے الفاظ ومعانی دونوں سنے تھے ؛ لیکن اصل الفاظ بھول جانے کی وجہ سے دونوںکو روایت كکرنے پرقادر نہیں ہے ، تو جتنے پر وہ قادر ہے اتنے کی ادائیگی اس پر لازم ہوتا ہے ؛ اس لئے کہ معانی کو اپنے الفاظ کا جامہ پہنا کر بیان نہیں کرے گا تو احکام شریعت کاکتمان لازم آئےگا، ہاں ، اگر اسے حدیث کے اصل الفاظ یاد ہیں تو اپنے الفاظ میں اس کی ترجمانی کرنا جائز نہیں ہوگا ؛کیونکہ کلام رسول ﷺمیں جو فصاحت ہے وہ غیر کےکلام میں ممکن نہیں (۱۵)۔
۵: اسی طرح روایت بالمعنی کے جوازکی شرطوں سے ایک یہ ہےکہ راوی ایسے متبادل الفاظ لائے جو کما حقہ اصل حدیث کے الفاظ کی مراد کو اداکرنے میں برابر ہوں۔(۱۶)۔
۶: مجوزين یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ وہ حدیثی نصوص توقیفی وتعبدی اور نہ ہی جوامع الکلم کے قبیل سے ہوں؛ كکیونکہ یہاں اصل الفاظ بھی مقصود ہوتے ہوں؛ اس لئےکہ جوہر الفاظ وکلمات تعبدی اور معنویت کے اعتبار سے مؤثر ہوتے ہیں۔ (۱۷)
اور جوامع الکلم ہونے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اس جیسے جامع وبلیغ کلمات پیش کرنے پرقادر نہ ہوں، ظاہر ہے کہ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ من وعین باقی رکھے جائیں، جیسے:
الْخراج بِالضَّمَانِ، الْبَيِّنَة على الْمُدَّعِي، لَا ضَرَر وَلَا ضرار، حمي الوطيس(۱۷)۔
اسی طرح یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ روایت بالمعنی اصل حدیث کے معنی سے مختلف نہ ہو۔(۱۸)۔
کیا روایت بالمعنی رسول اللہ ﷺکے خلاف کذب بیانی ہے؟
معلوم ہونا چاہیئےکہ روایت بالمعنی رسول اللہﷺ کے خلاف کذب بیانی کے زمرے میں نہیںآتی ہے ؛ کیونکہ روایت بالمعنی کی اجازت ہر کسی کو حاصل نہیں ہے ، اسی کو حاصل ہے جو عربی الفاظ کے پیچ وخم ، باہم ان کے درمیان باریک فُروق ، انکے مدلولات ومقاصد سے خوب آگاہ ہو ، ان الفاظ کے معنوں ومرادوں وتعبیرات سے اچھی طرح باخبر ہو،جن معانی کو الفاظ کا جامہ پہنا رہا ہے ان سے خوب واقف ہو ، حدیث کے مثبت ومنفی مفہوم ،یعنی مفہوم موافق ومخالف کو سمجھنے کی اس میں صلاحیت ہو ، اسکو اپنے تئیں اس بات پر یقین واطمینان ہو کہ جو حدیث اس تک پہنچی ہے اس کا مفہوم کما حقہ اداکردیا ہے،ان شرطوں کے پائے جانےکے باوجود اسی وقت اس کوروایت بالمعنی کی اجازت ہوتی ہے جبکہ وہ حدیث نبوی کے اصل الفاظ بھول چکا ہو ، حالانکہ اس نے الفاظ ومعانی دونوں سنے تھے ؛ لیکن اصل الفاظ بھول جانے کی وجہ سے دونوںکو روایت کرنے پرقادر نہیں ہے ، تو جتنے پر وہ قادر ہے اتنے کی ادائیگی اس پر لازم ہوتاہے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے متبادل الفاظ لائے جوکما حقہ اصل حدیث سے الفاظ کی مرادکو اداکرنے میں برابر ہوں، جیساکہ پیچھے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔
کیا موجودہ دور میں روایت بالمعنی جائز ہے ؟
ایک اہم سوال یہ ہےکہ کیا اس دور میں روایت بالمعنی جائز ہے ؟ جواب واضح ہے کہ جمہور علماء نے روایت بالمعنی کی اجاز ت از راہ ضرورت دی تھی کیونکہ من وعین الفاظ کے ضبط اور استحضار میں دشواری ہو رہی تھی، اب جب کہ تمام حدیثیں کتابوں میں مدون ہوچکی ہیں ؛ اس لئےکہ مدون کتابوں میں الفاظ ضبط ہوچکے ہیں اب کوئی دشواری باقی نہیں رہی؛ اس لئے روایت بالمعنی کی حاجت باقی نہیں رہی ؛ لہذا اب روایت بالمعنی کرنے کی رخصت باقی نہیں رہی ؛ پس دور حاضر میں روایت بالمعنی کرنا جائز نہیں (۱۹)۔
فقہی احکام پر روایت با لمعنی کے اثرات
یہ ایک امر طبیعی واقعہ ہےکہ مجتہد فقہی احکام میں اختلاف کے جملہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب روایت بالمعنی ہے؛ کیونکہ تمام انسانوں کی عقلیں یکساں نہیں ہیں ؛ جس کی وجہ سے فہم نصوص اور معانی کے سمجھنے میں اختلاف کا ہونا ناگزیر ہے ، اسی طرح روایت بالمعنی کے لئے الفاظ وتعابیرکے انتخاب اور معانی ومفاہیم کو الفاظ کا جامہ پہنانے میںاختلاف کا واقع ہونا فطری بات ہے ، ظاہر ہےکہ جس راوی نے جو سمجھا ہے، جب وہ اس کو اپنے اسلوب والفاظ میں ادا اور ترجمانی کرے گا تواس کا دوسرے سے مختلف ہونا ایک بدیہی امر ہے، اور راویوں کےاِ س اختلاف نے فقہی احکام کے استنباط میں بڑاکردار اداکیا ہے ، اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
زعفران کے استعمال کی ممانعت
زعفران کے استعمال کی ممانعت والی روایت حضرت انس ؓ سے منقول ہے ، ایک روایت مطلق ممانعت کی ہے:
انَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّزَعْفُرِ۔(۲۰)
اور دوسری روایت میں مردکی تخصیص کےساتھ منقول ہے:
نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ۔(۲۱)۔
اس اختلاف کی بنیادی وجہ روایت بالمعنی کا ہونا ہے ، اور ظاہر ہےکہ اس روایت کے اختلاف نے فقہی حکم پر اثر ڈالاہے ؛ چنانچہ مطلق والی روایت کو امام شعبہ اور علماءکی ایک جماعت نے لیا اور مرد اور عورت دونوں ہی کے لئے زعفران کے استعمال کو مکروہ قرار دیا ہے، دوسری روایت جس میں مردکی تخصیص ہے ، ایک سے زائد محدثین اصحاب سنن ، صحاح اور شیخین نے روایت کی ہیں اور جمہور علماء نے اسی کو اختیا رکیا ، یہی امام ابو حنیفہ ؒ اور امام شافعی کاا قول ہے (۲۲) ۔
امام نوو ی کا بیان ہے : صحیح حدیث سے مردوںکے لئے زعفران کے استعمال کی ممانعت ثابت ہے اور محققین علماء نے اسی کو اختیارکیا ہے۔(۲۳) ۔
حافظ عینی ؒ نے لکھا ہےکہ جمہور علماء نے مطلق والی روایت کو مقید پر محمول کیا ہے:
قَوْله أَن يتزعفر الرجل هَكَذَا قَيده بِالرجلِ وَكَذَا رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بن علية وَحَمَّاد بن زيد عِنْد مُسلم وَأَصْحَاب السّنَن وَرَوَاهُ شُعْبَة عَن ابْن علية عِنْد النَّسَائِيّ مُطلقًا فَقَالَ نهى عَن التزعفر وَكَأَنَّهُ اخْتَصَرَهُ وَالْمُطلق مَحْمُول على الْمُقَيد۔ (۲۴)
حافظ سخاوی ؒ سبب اختلاف روایت بالمعنی کو بتایاہے ، وہ لکھتے ہیں:
کیا آپ نہیں دیکھتے ہیںکہ اسماعیل بن عُلَيّہ اس طرح سے شعبہ ؒ پر نکیرکرتے ہیںکہ انہوں نے ان سے حدیث النَّهْيِ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُکی روایت بالمعنی اس لفظ سےکی ہے: نَهَى عَنِ التَّزَعْفُرِ جوکہ عموم پر دلالت کرتی ہے ، جبکہ یہ روایت مردوںکے ساتھ خاص ہے ۔(۲۵)
کافرا ورمسلمان کے درمیان میراث کا مسئلہ
”روایت بالمعنی اورفقہی احکام پر اس کے اثرات ‘‘کی دوسری مثال ” ایک کافر اورمسلمان کے درمیان میراث كکا مسئلہ “ہے؛ چنانچہ حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ نے فر مایا:
لاَ يَرِثُ المُسْلِمُ الكَافِرَ وَلاَ الكَافِرُ المُسْلِمَ(۲۶)۔
مسلمان کا فرکا اورکافر مسلمان کا وارث نہیں ہونگے۔
حدیث بالاکے مقابلہ میں ایک دوسری حدیث ہے، جس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ ہیں ، وہ نقل کرتے ہیں کہ ہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى۔ (۲۷)
دو مختلف مذہب والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہونگے ۔
پہلی حدیث جو کہ حضرت اسامہ بن زید ؓسے منقول ہے ،سے صاف طور پر معلوم ہوتاہے کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو گا اور نہ مسلمان کافرکا وارث ہوگا، اسی پر جمہور علماء حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کا عمل ہے ، اسی طرف امام ابو حنیفہ ؒ اور امام شافعی ؒ گئے ہیں ، اور شافعیہ اور حنفیہ کے نزدیک یہی اصح قول ہے ، اسی کو داؤد ظاہری ، امام ثوری ، حماد ، ابن شبرمہ اور ابراہیم نخعی نے بھی اختیارکیا ہے ، ان تمام علماءکاکہنا ہےکہ کافر لوگ آپس میں ایک دوسرےکے وارث ہونگے خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں، یعنی اسلام ایک مذہب ہے اور یہودی، عیسائی، مجوسی، صابی ، آگ اور بت کےپوجنے والے سب کے سب کے ایک ملت ومذہب کے ہیں ، دوسرے الفاظ میں مقابلہ اسلام سے ہے؛ اس لئے اسلام کے مقابلہ میں سب کےسب کے ایک ملت ومذہب ہیں (۲۸) ۔
مزید برآں حضرات فقہاء نے درج ذیل آیات سے استدلال کیا ہے، فرمان الہی ہے:
﴿قُلْ يَا أيها الكافرون … لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينٌ﴾ [۲۹]
آپ کہہ دیجئے: اے ایمان سے ان کارکرنے والو! … تو تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین۔
یہاں خاص بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے : ﴿أَدْيَانُكُمْ﴾ نہیں کہا ؛ پس معلوم ہواکہ تمام کافر ایک ہی ملت ہیں۔ مزید اللہ تعالی کا ارشاد :
﴿وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾ [۳۰]
”یہود ونصاری آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوجائیں“۔
یہاں پر بھی خاص بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے نہیں کہا؛ پس معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے کافروں کے تمام ادیان ومذاہب اورملتوںکو ایک ہی ملت قرارا دیا ہے۔(۳۱)۔نیزکہتے ہیں :کفار ومسلمین کے درمیان ولایت نہیں پائی جاتی ہے (۳۲)؛ چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ [۳۳]
اورکفرکرنےوالے ایک دوسرےکے دوست ہیں۔
دوسری حدیث ” دو مختلف مذہب والے ایلک دوسرےکے وارث نہیں ہونگے “ جس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ ہیں، سے معلوم ہوتا ہے کہ کافرکی ساری ملتیں مختلف ہیں ؛ لہذا ان کے درمیان اختلاف ملت مانع توارث ہوگا؛ پس یہودی عیسائی کا اور عیسائی یہودی کا وارث نہیں ہوگا، اس کے قائل امام زہریؒ، امام حسنؒ، امام شریکؒ، امام ابن لیلیؒ، امام احمدؒ، امام اسحاقؒ ، امام اوزاعی ، امام مالک اور ان کے اصحاب اور فقہاء بصریین ہیں (۳۴) ۔
جمہور علماء نے اس حدیث کا جواب دیاکہ دو مختلف مذہب سے مراد ایک اسلام اوردوسراکافر ہے، اوکافر والے سب کے سب ایک ہی کے مذہب وملت کے ہیںکیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فر مادیا:
﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ [۳۵]
اور کفرکرنے والے ایک دوسرے کے دوست ہیں(۳۶)
نیز جمہورکی تائید ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے جس کے راوی حضرت اسامہ بن زید ؓ ہیں ، وہ رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے ہیں ، آپ نےﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، وَلَا يَرِثُ مُسْلِمٌ كَافِرًا، وَلَا كَافِرٌ مُسْلِمًا۔
دوملت والے ایک دوسرےکے وارث نہیں ہوں گے، ایک مسلمان کافر اور ایک کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوگا .
پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ، إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾ [۳۷]
اورکفرکرنے والے ایک دوسرےکے دوست ہیں، اگر تم ایسا نہ کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ وفسا د پھیل جائےگا( ۳۸)۔
حواشی:
۱۔دیکھئے: فتح المغيث بشرح الفيۃ الحديث للعراقی للسخاوي:۳ / ۱۳۷، ط: مکتبۃ السنۃ، مصر، ۲۰۰۳ء، الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لابی شہبۃ ، ص: ۴۰
۲۔الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لأبي شہبۃ ، ص: ۴۰
۳۔إحکام الأحکام شرح عمدۃ الأحکام لابن دقيق العيد: 1 / 174، فتح الباري للحافظ ابن حجر: 11 / 202
۴۔إرشاد الفحول إلي تحقيق الحق من علم الأصول للشوكاني(المتوفى: 1250هـ): 1 / 157، ط: دار الكتاب العربي، 1419هـ – 1999ء
۵۔نخبة الفكر مع شرحه اليواقيت الدرر للمناوي: 2 / 113، الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لأبي شهبة، ص: 145
۶۔أسد الغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير (متوفى: 630ه) :۳ / ۲۶۸، ط 1: دار الكتب العلمية،1415هـ – 1994 ء
۷۔تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي للسيوطي (متوفى: 911هـ): ۱ / ۵۳۴، ط: دار طيبة
۸۔إرشاد الفحول إلي تحقيق الحق من علم الأصول للشوكاني(متوفى: 1250هـ) : ۱ / ۱۵۷، ط: دار الكتاب العربي، 1419هـ – 1999ء، توجيه الأفكار لمعاني تنقيح الأنظار لأبي إبراهيم الصنعاني: ۲ / ۲۲۳،ط: دار الكتب العلمية، بيروت
۹۔قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث لمحمد جمال الدين بن محمد سعيد بن قاسم الحلاق القاسمي (متوفى: 1332هـ)، ص: ۲۲۴، ط: دار الكتب العلمية -بيروت
۱۰۔دیكھئے: الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لأبي شهبة ، ص: ۱۴۵
۱۱۔إرشاد الفحول إلي تحقيق الحق من علم الأصول للشوكاني(متوفى: 1250هـ) : ۱ / ۱۵۷، ط: دار الكتاب العربي، 1419هـ – 1999 ء
۱۲۔نهاية السول شرح منهاج الوصول للإسنوي الشافعيّ (متوفى: ۷۷۲ھ)، ص: ۲۷۹، ط: دار الكتب العلمية -بيروت، ۱۴۲۰ھ – ۱۹۹۹ء
۱۳۔دیكھئے: إرشاد الفحول إلي تحقيق الحق من علم الأصول للشوكاني (متوفی: ۱۲۵۰ھ): ۱ / ۱۵۵، ط: ط: دار الكتاب العربي ، ۱۴۱۹ھ – ۱۹۹۹ء، فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي للسخاوي : ۳ / ۱۳۷، ط: مكتبة السنة، مصر، ۲۰۰۳ء
۱۴۔دیكھئے: مقدمة ابن الصلاح ، ص: ۸۵، فتح المغيث بشرح ألفية العراقي للسخاوي (متوفی: ۹۰۲ھ): ۳ / ۱۳۸، ط: مكتبة السنة بمصر ، ۲۰۰۳ء، التعليق الممجد على موطأ الإمام محمد للعلامة عبد الحي اللكنوي : ۳ / ۵۰۹
۱۵۔الحديث والمحدثون ، ص: ۲۰۴
۱۶۔نخبة الفكر مع شرحه اليواقيت الدرر للمناوي: ۲ / ۱۱۳
۱۷۔البحر المحيط في أصول الفقه لأبي عبد الله بدر الدين محمد بن عبد الله الزركشي (متوفى: 794هـ): 2 / 365، ط1/ : دار الكتب، 1414هـ – 1994م، الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني للأزهري المالكي (متوفى: 1126هـ): 2 / 332، ط: دار الفكر،1415هـ – 1995 ء، الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لأبي شهبة، ص: 146)؛ (البحر المحيط في أصول الفقه لأبي عبد الله بدر الدين محمد بن عبد الله الزركشي (متوفى: 794هـ)، : 2 / 365، ط1/ : دار الكتبي، 1414هـ – 1994م
۱۷۔التقرير والتحبير على تحرير الكمال ابن الهمام لابن أمير حاج الحنفي (متوفى: 879هـ) ۔: ۲ / ۲۸۵، ط۲: دار الكتب العلمية، ۱۴۰۳ھ، تدريب الراوي للسيوطي: ۱ / ۵۳۷، ط: دار طيبة
۱۸۔التقييد والإيضاح للعراقي: ۱ / ۳۳۹، شرح التبصرة والتذكرة ألفية العراقي: ۲ / ۱۲، فتح الباري للحافظ ابن حجر : ۱۱ / ۶۰۵، باب الاستثناء في الأيمان
۱۹۔تدريب الراوي للسيوطي: ۱ / ۵۳۸، ط: دار طيبة)،الحديث والمحدثون لمحمد زهو ، ص:۲۰۱ – ۲۰۲، الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لأبي شهبة ، ص: ۱۴۷
۲۰۔نسائي، المناسك، الزَّعْفَرَانُ لِلْمُحْرِمِ، حدیث نمبر: ۳۶۷۳، صحيح ابن حبان، حدیث نمبر: ۵۴۶۴، ترمذي، الأدب، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّزَعْفُرِ وَالخَلُوقِ لِلرِّجَالِ، حدیث نمبر: ۲۸۱۵
۲۱۔بخاري، اللباس، بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ، حدیث نمبر: ۵۸۴۶، مسلم، اللباس والزينة، بَابُ النَهْيِ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ، حدیث نمبر: ۲۱۰۱، ترمذي، الأدب، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّزَعْفُرِ وَالخَلُوقِ لِلرِّجَالِ، حدیث نمبر: ۲۸۱۵، امام ترمذی ؒ كا بیان ہے : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، أبوداؤد، ترجل،بَابٌ فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ، حدیث نمبر: ۴۱۷۹،صحيح ابن خزيمة، حدیث نمبر: ۲۶۷۳
۲۲۔التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد لابن عبد البر القرطبي (متوفى: 463هـ) : ۲ / ۱۸۲، ط: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية – المغرب،1387ھ
۲۳۔شرح صحيح مسلم للنووي : ۹ / ۲۱۶، ط 2 / دار إحياء التراث العربي – بيروت، 1392ھ
۲۴۔عمدة القاري شرح صحيح البخاري للعيني(متوفى: 855هـ) :۲۲ / ۲۲، ط: دار إحياء التراث العربي– بيروت، نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري شرح صحيح البخاري للحافظ ابن حجر: ۱۰ / ۳۰۴، ط: دار المعرفة – بيروت، 1379ھ
۲۵۔فتح المغيث بشرح ألفية العراقي للسخاوي: 3 / 138، ط: مكتبة السنة بمصر، 2003ء
۲۶۔بخاري، فرائض، بَابٌ: لاَ يَرِثُ المُسْلِمُ الكَافِرَ وَلاَ الكَافِرُ المُسْلِمَ، حدیث نمبر: ۶۷۶۴، مسلم، فرائض، حدیث نمبر: ۱۶۱۴
۲۷۔أبوداود، فرائض، بَابُ هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ؟، حدیث نمبر: ۲۹۱۱، دارقطني، فرائض، حدیث نمبر: ۴۰۸۴، مسند أحمد ، حدیث نمبر: ۶۶۶۴۔
۲۵۔فتح المغيث بشرح ألفية العراقي للسخاوي: 3 / 138، ط: مكتبة السنة بمصر، 2003ء
۲۶۔بخاري، فرائض، بَابٌ: لاَ يَرِثُ المُسْلِمُ الكَافِرَ وَلاَ الكَافِرُ المُسْلِمَ، حدیث نمبر: ۶۷۶۴، مسلم، فرائض، حدیث نمبر: ۱۶۱۴
۲۷۔أبوداود، فرائض، بَابُ هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ؟، حدیث نمبر: ۲۹۱۱، دارقطني، فرائض، حدیث نمبر: ۴۰۸۴، مسند أحمد ، حدیث نمبر: ۶۶۶۴۔
۲۸۔ دیكھئے: الاستذكار لابن عبد البر النمري القرطبي(متوفى: 463هـ) :۵ / ۳۷۰، ط: دار الكتب العلمية – بيروت، 1421ھ – 2000ء، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد له:۹ / ۱۷۰، ط: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية – المغرب،1387ھ، شرح السنة للبغوي الشافعي (متوفى: 516ھ) :۸ / ۳۶۴، ط2: المكتب الإسلامي – دمشق، بيروت، 1403ھ – 1983ء، فتح الباري: ۱۲ / ۵۱، نيل الأوطار للشوكاني اليمني (المتوفى: 1250ھ) : ۶ / ۸۹، ط: دار الحديث، مصر، 1413ھ – 1993 ء
۲۹۔ ۲۹۔الْكَافِرُونَ:۱ ، ۶
۳۰۔ بَقَرَہ:۱۲۰
۳۱۔الاستذكار لابن عبد البر النمري القرطبي: ۵ / ۳۷۰، ط: دار الكتب العلمية – بيروت،۱۴۲۱ھ – ۲۰۰۰ء
۳۲۔دیكھئے: شرح السنة للبغوي الشافعي (متوفى: 516هـ) : ۸ / ۳۶۴، ط2: المكتب الإسلامي – دمشق، بيروت، ۱۴۰۳ ھ – ۱۹۸۳ء
۳۳۔الْأَنْفَال: ۷۳
۳۴۔دیكھئے: التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد له:۹ / ۱۷۰، ط: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية –المغرب، ۱۳۸۷ھ، شرح السنة للبغوي الشافعي (متوفى: 516ھ) : ۸ / ۳۶۴، ط2: المكتب الإسلامي – دمشق، بيروت، ۱۴۰۳ ھ – ۱۹۸۳ء نيل الأوطار للشوكاني اليمني (متوفى: 1250ھ) : ۶ / ۸۹، ط: دار الحديث، مصر،۱۴۱۳ھ – ۱۹۹۳ء
۳۵۔ انفَال: ۷۳
۳۶۔شرح السنة للبغوي الشافعي (المتوفى: 516ھ) : ۸ / ۳۶۴، ط ۲ : المكتب الإسلامي – دمشق، بيروت، ۱۴۰۳ ھ – ۱۹۸۳ء، فتح الباری: ۱۲ / ۵۱، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح للملا علي الهروي القاري (متوفى :۱۰۱۴ھ): ۵ / ۲۲۳، ط: دار الفكر، بيروت – لبنان، ۱۴۲۲ھ – ۲۰۰۲ء
۳۷۔الأنفال: 73
۳۸۔مستدرك حاكم حدیث نمبر: ۲۹۴۴، حاکم کا بیان ہے : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے او رشیخین نے تخریج نہیں کی۔
تحقیقات شرعیہسہ ماہی علمی و تحقیقی مجلہ